عالمی منڈی: مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث پیر کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اچھال دیکھنے میں آیا اور نرخ 3 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئے۔
سرمایہ کاروں میں اس وقت شدید بے چینی پیدا ہوئی جب اسرائیل کی جانب سے لبنان پر نئے حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، اور اس کے فوراً بعد ایران میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی خبروں نے تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق:
برینٹ کروڈ (Brent Crude): 3.20 ڈالر (3.39 فیصد) اضافے کے بعد 96.24 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔
امریکی خام تیل (WTI): 2.87 ڈالر (3.17 فیصد) کی تیزی کے ساتھ 93.41 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
یہ تیزی خاصی اہم ہے کیونکہ جمعہ کے روز امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ میں کمی کی قیاس آرائیوں کے باعث قیمتوں میں گراوٹ دیکھی گئی تھی۔ تاہم، تازہ ترین پیش رفت نے ان تمام اثرات کو زائل کر دیا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، مارچ سے اب تک جاری اس جاری تنازع کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 50 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی نوعیت تیل کی سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے

