سکھر ( رپورٹ/عبد الرحمان راجپوت )
کمشنر سکھر ڈویژن عابد سلیم قریشی اور ڈی آئی جی پولس سکھر ناصر آفتاب نے سکھر ڈویژن میں محرم الحرام کے دوران امن امان کی فضا کو برقرار رکھنے اور دیگر ضروری انتظامات کے سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی کمشنر آفس کے کانفرنس ہال میں مشترکہ طور پر صدارت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر سکھر ڈاکٹر محمد عامر انصاری، ڈپٹی کمشنر سکھر نادر شہزاد خان، ڈپٹی کمشنر خیرپور الطاف احمد چاچڑ، ایس ایس پی خیرپور امیر سعود مگسی، ایس ایس پی سکھر اظہر خان، ڈی آئی بی انچارج سعید قاضی، ایس پی ریلویز شاہد نواز، ریجنل ہیڈ سوئی سدرن گیس کمپنی سکھر جئہ کمار چاؤلہ، ڈی ایچ او سکھر ڈاکٹر علی گل شاہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، سیپکو، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، میونسپل، سول ڈیفنس، انفارمیشن اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کو خطاب میں کمشنر سکھر ڈویژن عابد سلیم قریشی نے کہا کہ اجلاس کا مقصد عشرہ محرم الحرام کے دوران امن کی فضا کو قائم رکھنا اور عزاداروں کے لیے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، محرم الحرام کے دوران کسی کو بھی انتشار یا شر انگیزی پھیلانے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی، سکھر، خیرپور اور گھوٹکی اضلاع میں امن امان اور سکیورٹی انتظامات کے لیے ضلع انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، پولس اور رینجرز مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے، جبکہ اسکاؤٹس اور سول ڈیفنس رضاکار بھی اس دوران اپنی خدمات انجام دیں گے۔ کمشنر سکھر نے سیپکو اور سوئی گیس افسران کو ہدایت کی کہ محرم الحرام کے ایام کے دوران کم سے کم لوڈ شیڈنگ کی جائے۔ انہوں نے دیگر متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ مجالس اور ماتمی جلوسوں کے گذرگاہوں کی مناسب صفائی اور روشنی کے علاوہ تمام روڈ راستوں پر مین ہولز کو کور کیا جائے تا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے، ڈی آئی جی پولس سکھر و لاڑکانہ ریجن ناصر آفتاب نے کہا کہ کسی کو بھی نئے جلوسوں یا ماتمی روٹس کی تبدیلی کی اجازت نہ دی جائے، انہوں نے تجویز پیش کی کہ ضلع انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، پولس، رینجرز اور دیگر تمام متعلقہ ادارے کسی ایک چھت تلے مشترکہ کنٹرول روم قائم کریں، اس سے بہتر کوآرڈینیشن قائم رکھنے میں آسانی ہوگی۔ ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے کہا کہ تمام ذاکرین اور اہل تشیع کے ماتمی جلوسوں اور مجالس کے پرمٹ ہولڈرز اور ذمہ داروں کو پابند کیا جائے کہ اشتعال انگیز تقاریر سے اجتناب کریں تا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو، اور نہ ہی ایسی بات کسی ناخوشگوار واقعے کو جنم دینے کا سبب بنے،

