لاہو ر (بے نقاب نیوز رپورٹ ) ڈیفنس میں 18 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کے افسوسناک واقعے میں سوتیلے باپ کی گرفتاری عمل میں آ گئی ہے، جس کے بعد شہر میں ایک بار پھر سیکیورٹی، ہوٹلنگ سسٹم اور پولیس نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔پولیس کے مطابق ملزم محمد شاکر کو ڈیفنس اے کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ ایس پی کینٹ اختر نواز کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او ڈیفنس اے فوری کارروائی کی اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم متاثرہ لڑکی کو “دم کروانے” کے بہانے دی گرینڈ آرچرڈ ون ہوٹل کے کمرے میں لے گیا، جہاں مبینہ طور پر زیادتی کا واقعہ پیش آیا اور بعد ازاں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔پولیس نے متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے کیس کو جینڈر سیل کے حوالے کر دیا ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پولیس ذرائع اور بعض مقامی حلقوں کے مطابق لاہور سمیت پنجاب میں ہوٹلوں کے حوالے سے پہلے بھی ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جہاں مبینہ طور پر مشکوک سرگرمیوں کی شکایات رپورٹ ہوتی ہیں۔ تاہم ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اکثر کیسز میں کارروائی انفرادی ملزمان تک محدود رہتی ہے، جبکہ ہوٹل انتظامیہ کے کردار پر مکمل اور مستقل جانچ کا نظام مؤثر نہیں ہو پاتا۔ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس برانچ اور متعلقہ اداروں میں ہوٹلز سے متعلق ریکارڈ اور شکایات موجود ہیں، تاہم اس حوالے سے مؤثر اور مستقل نگرانی کے نظام کی ضرورت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ملوث عناصر کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔
لاہور: ہوٹل میں لڑکی سے مبینہ زیادتی، سوتیلا باپ گرفتار، ہوٹلوں سے متعلق شکایات لیکن ایکشن کیوں نہیں؟

