تحریر نفیس احمد آرائیں
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

ملک میں جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے عوام کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ دن بھر محنت مزدوری کرنے والا شہری جب رات کے اوقات میں بھی بجلی کی طویل بندش کے باعث سکون اور آرام سے محروم رہتا ہے تو اس کے ذہنی، جسمانی اور سماجی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
معاشرتی بے چینی، عدم برداشت اور اخلاقی انحطاط کے پس منظر میں توانائی کے بحران کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے ووٹوں سے حکومتیں منتخب کرتے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی سے ٹیکس ادا کرکے ریاستی نظام کو چلانے میں کردار ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں بنیادی سہولت یعنی بجلی کی بلا تعطل فراہمی بھی میسر نہیں۔
صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب شہری اپنی مدد آپ کے تحت سولر سسٹم کی جانب رجوع کرتے ہیں تو ان پر بھی نئے مالی بوجھ اور ٹیکسوں کی تلوار لٹکنے لگتی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیاں عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے اس کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عوامی تاثر یہ ہے کہ حکمران اور بیوروکریسی مراعات یافتہ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ کے عذاب تلے پس رہا ہے۔ مزدور طبقہ دن بھر روزگار کی جدوجہد اور رات بھر بجلی کی بندش کے باعث اذیت ناک حالات سے دوچار ہے۔
ملکی سیاسی منظرنامے پر بھی عوامی حلقوں میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض شہری سابق ادوارِ حکومت کا تقابل کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ماضی میں عوامی مسائل کے حل پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ اسی تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے موجودہ حکومتی کارکردگی پر تنقید اور متبادل نظامِ حکمرانی کے حوالے سے مختلف آراء کا اظہار بھی سامنے آتا رہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی جمہوری ریاست کی مضبوطی کا انحصار عوامی فلاح، بنیادی سہولیات کی فراہمی، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی اعتماد پر ہوتا ہے۔ اگر بجلی، گیس، روزگار اور مہنگائی جیسے بنیادی مسائل پر فوری اور مؤثر توجہ نہ دی گئی تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔
