اسلام آباد :وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔
یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔قبل ازیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اہم اجلاس، جو کل منعقد ہونا تھا، آئندہ بجٹ پر مزید غور و خوض کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا، ’’یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس، جو بدھ 3 جون 2026 کو منعقد ہونا تھا، ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کی نئی تاریخ سے بروقت آگاہ کر دیا جائے گا۔‘‘
قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس کا التوا خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل اس ادارے کی جانب سے اہم معاشی اہداف کی منظوری اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے حجم کی توثیق ضروری ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ میں تاخیر کی ایک اور وجہ آئندہ مالی منصوبے کے مالیاتی خدوخال پر حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مشاورت بھی ہے۔حکومت بجٹ کے اعلان کے بعد آخری وقت میں تبدیلیوں سے بچنا چاہتی ہے۔ اہم مالیاتی اعداد و شمار پر آئی ایم ایف کا اعتماد اور اتفاقِ رائے حاصل کرنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہےپاکستان کو توقع ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہے گی۔

