Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ’’قربانی منڈیاں یا منی لانڈرنگ کے اڈے؟‘‘ اربوں کی قربانی، کالے دھن کی کہانی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: ڈاکٹر داؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    عید الاضحیٰ سے قبل پورے پاکستان میں ہزاروں عارضی مویشی منڈیاں قائم ہو جاتی ہیں۔ یہ بازار مذہبی جذبے، تجارتی سرگرمیوں اور سماجی میل جول کا مرکز بن جاتے ہیں۔ چند ہی دنوں میں اربوں روپے کا لین دین ہوتا ہے۔ اگرچہ قربانی ایک مقدس اور نیک عبادت ہے، مگر ان منڈیوں کے گرد موجود مالیاتی نظام اکثر غیر منظم، غیر دستاویزی اور غلط استعمال کے لیے کھلا رہتا ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض عناصر ان بازاروں کو غیر رسمی منی لانڈرنگ، یعنی “کالے دھن” کو “سفید دھن” میں تبدیل کرنے، کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
    پاکستان کی نقدی پر مبنی معیشت پہلے ہی غیر دستاویزی لین دین کے مسائل سے دوچار ہے۔ قربانی کے موسم میں یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ مویشیوں کی خرید و فروخت زیادہ تر نقد رقم کے ذریعے ہوتی ہے۔ کوئی شخص نامعلوم ذرائع سے حاصل شدہ بھاری رقم سے جانور خرید سکتا ہے، پھر انہیں مختلف بیوپاریوں کے ذریعے فروخت کر کے اس رقم کو بظاہر “جائز کاروباری منافع” ظاہر کر سکتا ہے۔ چونکہ کئی مویشی منڈیوں میں مناسب ریکارڈ اور دستاویزات موجود نہیں ہوتیں، اس لیے رقم کے اصل ذرائع کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں گندا یا غیر قانونی پیسہ بظاہر “صاف” نظر آنے لگتا ہے۔
    یہ واضح رہنا چاہیے کہ مویشیوں کا کاروبار بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ لاکھوں دیانتدار کسان، تاجر، مزدور، ڈرائیور اور عام شہری اسی موسمی معیشت سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ وہ خامیاں ہیں جن سے ٹیکس چور، اسمگلر، بدعنوان عناصر اور جرائم پیشہ افراد فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر غیر ریکارڈ شدہ نقد لین دین غیر قانونی دولت کو جائز کاروبار کے ساتھ ملانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
    ایک اور اہم مسئلہ مصنوعی مہنگائی کا ہے۔ بعض اوقات جانوروں کی قیمتیں دانستہ طور پر بڑھائی جاتی ہیں تاکہ جعلی کاروباری حجم ظاہر کیا جا سکے۔ اس طرح بعض لوگ اپنی مشکوک دولت کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عید کے موسم میں کچھ افراد عارضی طور پر خود کو “مویشی تاجر” ظاہر کر کے بڑی رقوم کو قانونی آمدن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ عارضی اور ہجوم سے بھرپور منڈیوں میں مالیاتی نگرانی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔
    اس صورتحال کا نقصان بالواسطہ طور پر عام شہریوں کو بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ جب غیر قانونی پیسہ بازار میں آتا ہے تو قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہیں اور قربانی کے جانور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ طاقتور بیوپاری اور دلال قیمتوں اور رسائی پر اثر انداز ہو کر حقیقی کسانوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دھوکہ دہی کے واقعات بھی بڑھ جاتے ہیں، جیسے جعلی ملکیت، فرضی ویکسینیشن ریکارڈ، غلط وزن، جعلی آن لائن بکنگ اور ایڈوانس رقم ہڑپ کرنے کے فراڈ۔
    عام خریداروں کو چاہیے کہ قربانی کے جانور خریدتے وقت احتیاط سے کام لیں۔ جہاں ممکن ہو رجسٹرڈ اور معروف منڈیوں سے خریداری کریں۔ ڈیجیٹل ادائیگی یا رسید کا استعمال کچھ حد تک تحفظ اور ریکارڈ فراہم کر سکتا ہے۔ نامعلوم آن لائن فروخت کنندگان کو بڑی رقم بھیجنے سے گریز کریں جب تک ان کی تصدیق نہ ہو جائے۔ ایسے بیوپاری جو شناخت دینے سے انکار کریں یا غیر حقیقی رعایتیں پیش کریں، ان سے محتاط رہنا ضروری ہے۔ “صرف نقدی، کوئی سوال نہیں” والی سوچ وقتی آسانی تو دیتی ہے مگر غیر دستاویزی معیشت کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
    مذہبی عبادات کو مالیاتی ہیرا پھیری کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ قربانی ایثار، دیانت داری اور سماجی ذمہ داری کی علامت ہے۔ غیر قانونی دولت کو “پاک” بنانے کے لیے اس مقدس عمل کا استعمال نہ صرف اخلاقی بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ اسلام ناجائز کمائی اور دھوکہ دہی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے، چاہے اسے مذہبی یا خیراتی رنگ ہی کیوں نہ دیا جائے۔
    حکومت کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ اربوں روپے کے لین دین والی عارضی مویشی منڈیوں کو مکمل طور پر غیر دستاویزی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بڑے تاجروں کی رجسٹریشن، ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی، کمپیوٹرائزڈ رسیدوں اور مشکوک نقد لین دین کی نگرانی جیسے اقدامات ضروری ہیں۔ مقامی انتظامیہ، ٹیکس حکام اور مالیاتی انٹیلی جنس اداروں کے درمیان تعاون سے مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے، جبکہ دیانتدار تاجروں کو غیر ضروری ہراسانی سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔
    تاہم اصلاحات متوازن ہونی چاہئیں۔ ضرورت سے زیادہ بیوروکریسی یا اضافی ٹیکس پہلے ہی مشکلات کا شکار دیہی تاجروں اور کسانوں کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ مقصد عام شہری پر بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ مجرمانہ عناصر کے لیے راستے بند کرنا ہونا چاہیے۔ شفاف اور منظم نظام ریاست اور عوام دونوں کے مفاد میں ہے۔
    پاکستان کی معیشت اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک اربوں روپے کے موسمی نقد بہاؤ کو مؤثر نگرانی میں نہ لایا جائے۔ قربانی کی منڈیاں گندے پیسے کو “صاف” کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمان، خدمت، ہمدردی اور جائز تجارت کی علامت ہونی چاہئیں۔ عوامی شعور، ذمہ دارانہ خریداری اور دانشمندانہ حکومتی پالیسیوں کے ذریعے اس استحصال کو کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ عید الاضحیٰ کی روحانی خوبصورتی بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

    Related Posts

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    جلال پور پیر والا: موٹرسائیکل کو بچا تے ہوئے گاڑی  نہر میں جا گيری

    مقبول خبریں

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    ساس کا اپنی بہو اور اس کے یتیم بچوں پر  ساتھیوں مدد سے  تشدد

    ٹریفک حادثہ، راہگیر جاں بحق

    نئی آٹو پالیسی، مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.