پیرس: دنیا کی بڑی غذائی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں ‘نیسلے’ (Nestle) اور ‘ڈینون’ (Danone) کو اپنے ایک اہم ترین پروڈکٹ یعنی شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ میں آلودگی اور اس پر کمپنی کے غیر ذمہ دارانہ ردعمل کے حوالے سے سنگین سوالات کا سامنا ہے۔ فرانسیسی، بیلجیئم اور سوئس میڈیا کی جانب سے منگل کو شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان کمپنیوں نے حکام کو بروقت مطلع کرنے اور ممکنہ طور پر مضرِ صحت مصنوعات کو مارکیٹ سے واپس منگوانے (Recall) میں تاخیر کی۔
’ریڈیو فرانس‘، ’آر ٹی بی ایف‘ (RTBF) اور ’آر ٹی ایس‘ (RTS) کی مشترکہ تحقیقات کے مطابق، فارمولا دودھ میں ‘سیریولائیڈ’ (Cereulide) نامی ایک زہریلا مادہ پایا گیا، جو بچوں میں الٹی اور اسہال کا باعث بن سکتا ہے اور نومولود بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ زہریلا مادہ چین کی کمپنی ‘CABIO Biotech’ کے فراہم کردہ ایک اجزاء میں پایا گیا، جسے نیسلے، ڈینون اور لیکٹالس (Lactalis) جیسی بڑی کمپنیوں نے اپنے فارمولا دودھ میں استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ نیسلے نے جرمنی اور آسٹریا میں 24 دسمبر سے ہی "خاموشی” کے ساتھ مصنوعات کو مارکیٹ سے ہٹانا شروع کر دیا تھا، جبکہ ڈینون کی مصنوعات بھی عوامی سطح پر اطلاع دینے سے قبل جنوری میں مارکیٹ سے غائب کی گئیں۔
نیسلے کے ترجمان نے ان رپورٹس کو "غلط اور گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے دن سے ہی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور شفافیت کو برقرار رکھا۔ نیسلے کے مطابق، انہوں نے نومبر کے آخر میں معمولی آلودگی کا پتہ چلنے پر تحقیقات شروع کیں اور 24 دسمبر کو تصدیق ہونے کے بعد متعلقہ اجزاء کا استعمال بند کر دیا۔ تاہم، عوامی سطح پر مصنوعات واپس منگوانے کا عمل 5 جنوری کو شروع کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، نیسلے نے 26 دسمبر سے اپنے فرانسیسی کارخانوں اور دیگر مراکز پر 8 لاکھ 38 ہزار ڈبے روک لیے تھے، لیکن مارکیٹ میں موجود اسٹاک کے بارے میں فوری طور پر یورپی حکام کو مطلع نہیں کیا گیا، جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو شیر خوار بچوں کی ہلاکتوں سے جڑا ہے۔ فرانس کے مختلف شہروں (بورڈو اور آنگرز) میں استغاثہ نے دو بچوں کی اموات کا فارمولا دودھ سے براہِ راست تعلق ہونے کے امکان کو فی الحال مسترد کر دیا ہے۔ تاہم، ایک تیسرے بچے کی موت کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں، جبکہ ‘مو’ (Meaux) میں شروع ہونے والا ایک اور کیس پیرس منتقل کر دیا گیا ہے۔
والدین اور صارفین میں اس خبر کے بعد شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ان بڑی کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ بچوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔
نیسلے کے لیے نئی مشکل: شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ میں زہریلے مادے کا انکشاف

