واشنگٹن/تل ابیب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نیست و نابود کرنے کی ایک اور ہولناک دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس اب وقت ختم ہو رہا ہے اور اگر اس کے رہنماؤں نے فوری طور پر اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی تو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک انتہائی جارحانہ پوسٹ شیئر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تہران کو شدید ترین انتباہ جاری کیا ہے۔
” امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا:
"ایران کے لیے الٹی گھڑی (Clock is Ticking) چلنا شروع ہو چکی ہے، اور ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ بہت تیزی سے اپنے اقدامات کریں (کسی معاہدے کی طرف بڑھیں)، ورنہ ان کا نام و نشان تک باقی نہیں بچے گا۔ وقت بہت اہم ہے اور تیزی سے نکلا جا رہا ہے!”
𝗗𝗼𝗻𝗮𝗹𝗱 𝗝. 𝗧𝗿𝘂𝗺𝗽 𝗧𝗿𝘂𝘁𝗵 𝗦𝗼𝗰𝗶𝗮𝗹 𝟱.𝟭𝟳.𝟮𝟲 𝟭𝟮:𝟰𝟮 𝗣𝗠 𝗘𝗦𝗧
For Iran, the Clock is Ticking, and they better get moving, FAST, or there won’t be anything left of them. TIME IS OF THE ESSENCE! President DJT
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) May 17, 2026
صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران کے خلاف کسی ممکنہ اور حتمی امریکی فوجی ایکشن کا واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
تہران پر بڑھتے ہوئے اس دباؤ کے درمیان اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر ‘کان’ (Kan) نے ایک دھماکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ اتوار کے روز ہی اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ایک انتہائی اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو نصف گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔اس طویل فون کال کے دوران ایران کے خلاف دوبارہ لڑائی شروع کرنے کے امکانات پر تفصیلی اور اسٹریٹجک تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران میں جنگ کے امکانات کے علاوہ، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو اپنے حالیہ دورۂ چین کے حوالے سے بھی اعتماد میں لیا۔
سیاسی و عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک طرف صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ‘ٹاکنگ کلاک’ کی دھمکی اور دوسری طرف نیتن یاہو کے ساتھ ان کی آدھے گھنٹے سے زائد طویل مشاورت اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب مل کر ایران کے خلاف کسی بڑے اور ہلاکت خیز آپریشن کا خاکہ تیار کر چکے ہیں۔ اگر ایران نے فوری طور پر امریکی شرائط کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر کسی بڑی تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

