واشنگٹن: امریکی صدارتی محل (وائٹ ہاؤس) میں اس وقت ایک انتہائی غیر متوقع اور حیرت انگیز صورتحال پیدا ہو گئی جب وہاں موجود میڈیا نمائندوں کو شہد کی مکھیوں کے ایک بہت بڑے غول کا سامنا کرنا پڑا۔ اس عجیب و غریب واقعے نے تجربہ کار صحافیوں کو بھی حیرت اور خوف میں مبتلا کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق مکھیوں کے اس اچانک حملے کے باعث وائٹ ہاؤس کا مرکزی راستہ اور نارتھ لان عارضی طور پر بند ہو گیا۔ مختلف میڈیا ہاؤسز کے نمائندوں نے اس صورتحال کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا:
کیلی مائرز (رپورٹر، نیوز نیشن): انہوں نے ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر لکھا، "میں جیسے ہی وائٹ ہاؤس کے اندر داخل ہوئی تو مکھیوں کے ایک غول نے راستے کو بلاک کر رکھا تھا، یہ دیکھ کر مجھے واپس مڑنا پڑا۔”
The White House was attacked by a swarm of bees and i’m not even joking😭 pic.twitter.com/2VS1G9gtO3
— kira 👾 (@kirawontmiss) May 16, 2026
الیگزینڈریا ہاف (رپورٹر، فاکس نیوز): انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ہزاروں مکھیاں اڑتی دکھائی دے رہی تھیں، جبکہ ویڈیو کے پسِ منظر میں ایک آواز اس منظر کو "مکھیوں کا طوفان” (Bee Tornado) قرار دے رہی تھی۔
ایڈورڈ لارنس (رپورٹر، فاکس بزنس): انہوں نے تخمینہ لگایا کہ وائٹ ہاؤس کے لان میں اس وقت "ہزاروں” مکھیاں اڑ رہی تھیں جس سے رپورٹرز کو بچنے کے لیے دوڑیں لگانا پڑیں۔
وائٹ ہاؤس میں مکھیوں کی موجودگی کی تاریخ
وائٹ ہاؤس میں شہد کی مکھیاں آنا کوئی اتفاقی بات نہیں ہے۔ یہاں سنہ 2009 سے باقاعدہ طور پر شہد کی مکھیاں پالنے کا ایک پروگرام چل رہا ہے، جس کا آغاز وائٹ ہاؤس کے کارپینٹر اور ماحول دوست چارلی برانڈٹ نے کیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ ہی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی اس اراضی پر ایک نئے اور جدید ترین چھتے کی نمائش کی تھی، جسے وائٹ ہاؤس ہی کے ایک چھوٹے ماڈل کی شکل میں خوبصورتی سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جمعہ کو آنے والا سیلاب نما غول اسی پروگرام کی مکھیوں کا ہو سکتا ہے جو اپنے چھتے سے باہر نکل آئی تھیں۔.

