ایمسٹرڈیم: بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے دورۂ نیدرلینڈز کے دوران عالمی ٹیکنالوجی اور معیشت کی دنیا میں ایک بڑا معرکہ سر کر لیا ہے۔ وزیرِ اعظم مودی کی موجودگی میں نیدرلینڈز کے معروف ترین ٹیک جائنٹ ASML اور بھارت کی ٹاٹا الیکٹرانکس کے مابین سیمی کنڈکٹر (مائیکرو چپس) کی تیاری اور سپلائی چین کو بڑھانے کے لیے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت بھارتی ریاست گجرات کے علاقے دھولیرا میں ایک جدید ترین مائیکرو چپ مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کیا جائے گا۔
نیدرلینڈز کی کمپنی ASML دنیا بھر میں مائیکرو چپس بنانے والی جدید ترین مشینیں تیار کرنے کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت ڈچ کمپنی بھارت کو اپنے انتہائی جدید ‘لیتھوگرافی ٹولز’ (Lithography Tools) فراہم کرے گی، جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، جدید کاروں اور اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والی ہائی ٹیک مائیکرو چپس کی بڑے پیمانے پر اور تیز رفتار پیداوار کو ممکن بنائیں گے۔
ٹاٹا الیکٹرانکس اس میگا پروجیکٹ میں 11 ارب ڈالر کی خطیر رقم سرمایہ کاری کرے گی۔
بھارت اس ٹیکنالوجی کے ذریعے لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا کرنا چاہتا ہے، جبکہ یورپی یونین کی نظریں بھارت کی تیز رفتار معیشت اور دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ پر جمی ہیں۔
یہ معاہدہ بھارت اور یورپی یونین کے مابین آزاد تجارتی معاہدے (FTA) اور اقتصادی شراکت داری کے تحت سامنے آیا ہے، جسے وزیرِ اعظم مودی نے "مدر آف آل ڈیلز” کا نام دیا ہے۔ اس موقع پر بھارتی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا:”سیمی کنڈکٹرز کی دنیا میں بھارت کے بڑھتے ہوئے یہ قدم ہماری نوجوان نسل کے لیے بے پناہ مواقع لے کر آئیں گے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہم آنے والے وقت میں مزید تیزی لائیں گے۔”
دوسری جانب، نیدرلینڈز کے وزیرِ اعظم روب جیٹن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈچ کمپنیاں بھارت میں بھاری سرمایہ کاری کر کے وہاں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں زبردست مدد کر سکتی ہیں، جبکہ اس سے بھارتی ٹیلنٹ کو نیدرلینڈز راغب کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
مودی کا ‘مدر آف آل ڈیلز’ کا اعلان، نیدرلینڈز اور ٹاٹا کے مابین تاریخی سیمی کنڈکٹر معاہدہ

