کراچی :کراچی میں منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تفتیشی حکام نے ملزمہ کی شناختی اور سفری دستاویزات کا ریکارڈ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مالی معاملات سے جڑے مزید افراد تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے۔ دوسری طرف پنکی کے مبینہ شوہر ناصر علی کے شناختی کارڈ کی کاپی منظرِ عام پر آ گئی ہے جب کہ وہ کچھ عرصہ قبل مبینہ طور پر عمان فرار ہو گیا تھا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے انمول عرف پنکی کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ملزمہ نے 17 اپریل 2018 کو کراچی سے پاسپورٹ بنوایا تھا، جو 17 اپریل 2023 کو ایکسپائر ہو چکا ہے جب کہ ملزمہ نے 6 دسمبر 2016 کو قومی شناختی کارڈ حاصل کیا، جس پر ابوالحسن اصفہانی روڈ گلشنِ اقبال کراچی کا پتہ درج ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی حکام ملزمہ کی سفری تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بیرونِ ملک روابط، ممکنہ نیٹ ورک اور مالی لین دین سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ ملزمہ کے اہل خانہ کے پاسپورٹس اور شناختی دستاویزات کی تفصیلات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
دوسری طرف پنکی کیس میں پولیس کو ایک اور اہم کامیابی بھی ملی ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق پولیس نے پنکی کے ایک اور مبینہ اکاؤنٹنٹ کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزم سہیل اپنے بھائی ذیشان کے ساتھ مل کر پنکی کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات دیکھتا تھا۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے مالی لین دین، بینک اکاؤنٹس، مبینہ منشیات نیٹ ورک اور سہولت کاروں سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے جب کہ کیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کا دائرہ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے مبینہ شوہر ناصر علی کے شناختی کارڈ کی کاپی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کی مبینہ شادی ناصر علی سے ہوئی تھی، جو وزیر آباد، گوجرانوالہ کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ناصر علی اپنی مبینہ بیوی انمول عرف پنکی کے ساتھ مل کر آن لائن منشیات فروشی کے مکروہ دھندے میں ملوث تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان رائیڈرز کے ذریعے پارسل بک کروا کر مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کرتے تھے۔
تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی اور اس کا مبینہ شوہر لاہور کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر رہے جب کہ شہر کے پوش علاقوں میں بھی منشیات سپلائی کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔پولیس ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ او سی یو منشیات سیل اور پولیس کی سخت کارروائیوں کے بعد ناصر علی کچھ عرصہ قبل مبینہ طور پر عمان فرار ہو گیا تھا۔پولیس کی جانب سے کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں جب کہ دیگر ممکنہ سہولت کاروں کے حوالے سے بھی تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

