حیدرآباد (رپورٹ: دلدار علی بلال)
حیدرآباد انتظامیہ کی بارہا کارروائیوں اور سخت احکامات کے باوجود شہر اور گردونواح میں غیر قانونی ایل پی جی ری فلنگ کا خطرناک کاروبار ایک بار پھر کھلے عام جاری ہے۔ مختلف علاقوں میں دکاندار نہ صرف گھریلو سلینڈروں میں غیر قانونی ری فلنگ کر رہے ہیں بلکہ گاڑیوں میں ایل پی جی فلنگ کے لیے غیر محفوظ پلانٹس نصب کرکے شہریوں کی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ذرائع اور کیے گئے سروے کے مطابق گدو ناکہ، ہالا ناکہ، پالاری ہوٹل، بڈھو پالاری، بھٹائی ٹاؤن کچی آبادی، بھٹائی نگر، ٹنڈو یوسف، نئی و پرانی سبزی منڈی، محمدی موڑ، بدین بس اسٹاپ، ہزارہ کالونی، زیل پاک مارکیٹ، نارا جیل، نیا پل قاضی قیوم روڈ، پریٹ آباد، کالی موری سمیت کئی علاقوں میں یہ غیر قانونی کاروبار دھڑلے سے جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق رکشوں، سوزوکیوں، کاروں اور یہاں تک کہ چھوٹی لوڈنگ گاڑیوں میں بھی خطرناک انداز میں ایل پی جی بھری جارہی ہے، جبکہ کئی گاڑیوں میں مسافروں کی موجودگی میں ہی فلنگ کا عمل جاری رہتا ہے، جو کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں سلینڈر دھماکوں کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔
تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے بعض نچلے درجے کے اہلکاروں اور مقامی پولیس کی مبینہ سرپرستی کے باعث بند کی گئی دکانیں دوبارہ کھل گئی ہیں، جہاں رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں بھی غیر قانونی ری فلنگ کا کام جاری ہے۔
شہری حلقوں نے کمشنر حیدرآباد، ڈی سی حیدرآباد اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے اور غیر قانونی ایل پی جی ری فلنگ مراکز کو مستقل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسی بڑے سانحے سے بچا جا سکے۔
حیدرآباد میں غیر قانونی ایل پی جی ری فلنگ کا دھندا عروج پر، شہر بارود کے ڈھیر میں تبدیل

