کراچی :کراچی کے ضلع جنوبی میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہو گئی جب پولیس نے پریس کلب کے باہر اچانک کارروائی کرتے ہوئے عورت مارچ اور خواجہ سرا کمیونٹی کی معروف رہنماؤں سمیت 8 خواتین کو حراست میں لے لیا۔
خواتین پریس کانفرنس کے لیے پہنچیں ہی تھیں کہ انہیں میڈیا سے گفتگو سے قبل ہی روک کر پولیس موبائل میں منتقل کر دیا گیا۔حراست میں لی جانے والی خواتین میں شیما کرمانی، منیزہ احمد اور خواجہ سرا کمیونٹی کی رہنما شہزادی رائے سمیت دیگر شامل تھیں۔
Today, I was beaten up, dragged, thrashed and humiliated by Sindh Police for standing up for @AuratMarchKHI , for standing up for cis women allies, for standing up for feminist values.
Id still demand an NOC for Aurat March Karachi from relevant government authorities. @AseefaBZ pic.twitter.com/InCcc6DNji— Shahzadi Rai (@ShahzadiRai) May 5, 2026
عینی شاہدین کے مطابق خواتین پولیس اہلکاروں نے منتظمین کو گھیر کر زبردستی گاڑیوں میں بٹھایا اور قریبی تھانے منتقل کر دیا، جس پر موقع پر موجود افراد میں شدید بے چینی پھیل گئی۔واقعے نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب شیما کرمانی نے اپنی گاڑی پریس کلب کے مرکزی گیٹ پر کھڑی کر کے گرفتاریوں کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ پولیس نے انہیں گاڑی سے اتار کر حراست میں لیا۔
جس کے باعث پریس کلب کے باہر رش اور کشیدگی بڑھ گئی جبکہ کچھ خواتین اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔پولیس حکام کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائی "نقصِ امن کے خدشے” کے پیش نظر کی گئی۔ تاہم معاملہ اس وقت پلٹا جب سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام نے فوری مداخلت کی، جس کے بعد تمام زیرِ حراست خواتین کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد خواتین دوبارہ پریس کلب پہنچ گئیں اور اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔یہ واقعہ شہری آزادیوں، اظہارِ رائے اور پولیس اختیارات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

