Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پاک بحریہ کی جدید ترین آبدوز ”ہنگور“ کو کمیشن کی تقریب

      ہوشیار! آپ کے برابر سے گزرتی گاڑی آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی کر سکتی ہے: کینیڈا میں ’ایس ایم ایس بلاسٹر‘ گینگ پکڑا گیا، 13 ملین فون متاثر!

      ڈیجیٹل دنیا میں ’مادری زبانوں‘ کا مسیحا: رحمت عزیز خان چترالی کا وہ کارنامہ جس نے پاکستان کا نام روشن کر دیا!

      مصنوعی ذہانت، نظریہ اور منافع—اوپن اے آئی تنازع اور پاکستان کا مستقبل

      حکومتی بابوؤں کا نیا ‘صدری نسخہ’: مڈل کلاس کو نچوڑنے کا منصوبہ، کیا اب بجلی کا بل تنخواہ دیکھ کر آئے گا؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

      بیانئے کی جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ایران جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی سینٹ میں قرارداد چھٹی مرتبہ مسترد، جنگ تو ہوہی نہیں رہی، ٹرمپ انتظامیہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    واشنگٹن ڈی سی :امریکی سینیٹ نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی قرارداد مسترد کر دی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا جنگ ختم ہوچکی ہے۔
    معروف ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈم شِف کی جانب سے پیش کیے گئے وار پاورز بل کو 47 ووٹ ملے جبکہ اس کی مخالفت میں 50 ووٹ پڑے۔ یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ سینیٹ نے اس طرز کے بل کو مسترد کیا ہے۔
    پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے جان فیٹر مین واحد ڈیموکریٹ رکن تھے جنھوں نے اس بل کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ دو ری پبلکن سینیٹرز، سوزن کولنز اور رینڈ پال نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
    یہ پہلا موقع ہے کہ سوزن کولنز نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’جیسا کہ میں ایران کے تنازع کے آغاز سے کہتی آ رہی ہوں، بطور کمانڈر اِن چیف صدر کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں۔‘
    ان کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق کانگریس کا جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں ایک اہم کردار ہے۔ کولنز کا کہنا ہے کہ وار پاورز کے تحت غیر ملکی تنازعات میں امریکا کی شمولیت کی منظوری یا خاتمے کے لیے 60 روز کے اندر کانگریس سے منظوری لازمی ہے۔
    سوزن کولنز نے اس بات پر زور دیا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی مزید فوجی کارروائی کے لیے واضح مشن، قابلِ حصول اہداف اور تنازع کے خاتمے کی صاف حکمتِ عملی ہونا ضروری ہے۔ میں نے اس وضاحت کے سامنے آنے تک عارضی طور پر ان فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔‘
    دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئیر عہدیدار نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی ختم ہو چکی ہے۔
    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے۔
    صدر ٹرمپ کے پاس جمعے تک کا وقت ہے کہ وہ یا تو ایران کے ساتھ جنگ ختم کریں یا پھر اسے جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے رجوع کریں اور اس جنگ کی وجوہات پیش کریں۔
    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس عہدیدار نے انتظامیہ کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی ختم ہو چکی ہے۔‘
    ان کا مزید کہنا ہے کہ تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے امریکی اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان کسی قسم کی لڑائی نہیں ہوئی ہے۔
    1973 کے قانون کے تحت صدر کو یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ کانگریس سے اجازت حاصل کیے بغیر 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم اس کے بعد یا تو اسے ختم کرنا ہو گا یا پھر مسلح افواج کی سلامتی کے لیے ’فوری فوجی ضرورت‘ کی بنیاد پر کانگریس سے اجازت یا 30 دن کی توسیع طلب کرنا ہو گی۔

     

    Related Posts

    اداکارہ کرشمہ کپور کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

    ایران امریکا کشیدگی، تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ جاری

    ڈیزل سے لدا پاکستانی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گذر کر کراچی روانہ

    مقبول خبریں

    اداکارہ کرشمہ کپور کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

    ایران امریکا کشیدگی، تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ جاری

    ڈیزل سے لدا پاکستانی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گذر کر کراچی روانہ

    امریکا سے مذاکرات ، باضابطہ ثالث پاکستان ہی ہے، ایران

    ایران جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی سینٹ میں قرارداد چھٹی مرتبہ مسترد، جنگ تو ہوہی نہیں رہی، ٹرمپ انتظامیہ

    بلاگ

    کے پی آئی کا دباؤ،، پنجاب میں گورننس کارکردگی کے بجائے نمبرز تک محدود

    موبائل فون اور دم توڑتی پرائیویسی۔!!!!

    لاہور، میانوالی، ننکانہ صاحب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات

    متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ کیوں؟

    خطرات کا گٹھ جوڑ — پاکستان ایک پوشیدہ جنگ میں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.