کراچی :پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی تیزی کے بعد ایک بار پھر فروخت کا دباؤ لوٹ آیا جس کے نتیجے میں بدھ کو ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس 1900 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔
دوپہر 2 بجکر 25 منٹ پر بینچ مارک 100 انڈیکس 1,938.76 یا 1.15 فیصد کمی سے 166,473.47 پوائنٹس پر آگیا۔
اہم شعبوں بشمول کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا۔ انڈیکس میں زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز جن میں اٹک ریفائنری، حب پاور کمپنی ، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پاکستان آئل فیلڈز، ماڑی پٹرولیم، ایم سی بی ، میزان بینک اور یو بی ایل بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔
وفاقی وزیرِخزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ زیادہ تر شرائط پوری کردی ہیں اور انہیں امید ہے کہ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ 8 مئی کو 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دے دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ کی منظوری سے بیرونی فنڈز کی آمد کی راہ ہموار ہوگی جس سے توازنِ ادائیگی میں استحکام آئے گا۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ مئی کے وسط میں آئی ایم ایف مشن کی آمد بھی متوقع ہے جو آئندہ برس کی بجٹ تجاویز پر تبادلہ خیال کرے گا۔
منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج مسلسل دوسرے سیشن میں بھی دباؤ کا شکار رہی۔ سرمایہ کار اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کے غیر متوقع اضافے پر ردعمل دیتے رہے جس کی وجہ سے دن بھر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا اور بڑے شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت کے باعث مارکیٹ مندی پر بند ہوئی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 1,085.12 پوائنٹس یا 0.64 فیصد کی کمی سے 168,412.23 پوائنٹس پر بند ہوا۔
تیزی کے بعداسٹاک مارکیٹ میں پھر فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس میں 1900 پوائنٹس کی کمی

