تحریر:راجہ محمد عارف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

پاکستان میں سب سے بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ ہم نے ہمیشہ مسائل کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر کے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ شدت پسندی کو محض سیکیورٹی مسئلہ سمجھا گیا، حالانکہ اس کی جڑیں غربت، ناانصافی، اور کمزور حکمرانی میں پیوست ہیں۔ اسی طرح معاشی بحران کو مالیاتی پالیسیوں تک محدود رکھا گیا، جبکہ اس کے اثرات ریاستی رٹ، سماجی استحکام اور قومی سلامتی تک پھیلتے ہیں۔ نتیجتاً ایک مسئلہ وقتی طور پر دبایا جاتا ہے تو دوسرا سر اٹھا لیتا ہے، اور یوں ریاست ایک مسلسل دائرے میں گھومتی رہتی ہے جہاں کوئی بھی کامیابی دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔
خطے کی صورتحال اس پیچیدگی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ افغانستان کی غیر یقینی کیفیت، سرحدی کمزوریاں اور شدت پسند گروہوں کے باہمی روابط اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطرات اب مقامی نہیں رہے بلکہ ایک مربوط نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں روایتی سیکیورٹی حکمت عملیاں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ وہ اس نئے طرز کے خطرے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جب تک علاقائی سطح پر ہم آہنگی اور داخلی استحکام کو یکجا نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ خطرات مسلسل بڑھتے رہیں گے۔
دوسری جانب معیشت کی کمزوری اس پورے نظام کو مزید غیر مستحکم کر رہی ہے۔ جب ریاست مالی بحران کا شکار ہوتی ہے تو اس کی عملداری متاثر ہوتی ہے، ادارے دباؤ میں آ جاتے ہیں اور عوامی اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی خلا بدامنی، جرائم اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتا ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور معیشت مزید زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کا بوجھ اسی گہرے مسئلے کی علامات ہیں، نہ کہ اس کی اصل وجوہات۔
خوراک کی قلت اور انسانی ترقی کے مسائل بھی اسی زنجیر کا حصہ ہیں۔ یہ صرف زرعی پیداوار کی کمی کا معاملہ نہیں بلکہ ناقص گورننس، موسمیاتی تبدیلی اور پالیسی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔ جب ریاست بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو سماجی بے چینی بڑھتی ہے، اور یہی بے چینی بالآخر سیکیورٹی کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اس طرح ایک ایسا شیطانی چکر وجود میں آتا ہے جس میں ہر مسئلہ دوسرے کو تقویت دیتا ہے اور ریاستی ڈھانچہ بتدریج کمزور ہوتا جاتا ہے:
تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کی حکمت عملی ہمیشہ ردعمل پر مبنی رہی ہے، پیش بندی پر نہیں۔ ہم بحران کے بعد حرکت میں آتے ہیں، جبکہ جدید ریاستیں خطرات کے باہمی تعلق کو پہلے سے سمجھ کر مربوط پالیسیاں تشکیل دیتی ہیں۔ یہی فرق ہمیں بار بار ایک ہی دائرے میں واپس لے آتا ہے جہاں وقتی اقدامات تو کیے جاتے ہیں مگر بنیادی اصلاحات نظرانداز ہو جاتی ہیں۔
میری رائے میں پاکستان کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ وہ اس “خطرات کے گٹھ جوڑ” کو تسلیم کرے اور پالیسی سازی کو اسی بنیاد پر ازسرنو ترتیب دے۔ سیکیورٹی، معیشت اور سماجی ترقی کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت چلانا ہوگا۔ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، ہر کامیابی عارضی اور ہر ناکامی مستقل محسوس ہوتی رہے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا اصل بحران وسائل کی کمی نہیں بلکہ سوچ کی محدودیت ہے، اور جب تک ہم مسائل کو ایک مربوط نظام کے طور پر نہیں سمجھتے، یہ پوشیدہ جنگ جاری رہے گی—اور شاید مزید شدت اختیار کرتی جائے گی۔

