کراچی :سوشل میڈیا پر ایک خبر آگ کی طرح پھیلی ہوئی ہےاور وہ یہ ہے کہ آئندہ سے آپ کو بجلی کے بل آپ کی آمدن کے حساب سے آیا کریں گے جی ۔۔ آپ نےدرست سنا اور درست پڑھا ہے اب بجلی کے موصول ہونےوالے بل آپ کی ماہانہ تنخواہ یا آمدن کے مطابق ہوں گے۔
سوشل میڈیا صارفین نے ا س خبر پر طرح طرح کے تبصرے کئے کسی نے کہا یہ فیک نیوز ہے تو کسی نے اسے پاگل پن قرار دیا ۔۔۔لیکن بے نقاب نیوز کے مطابق نہ تو یہ فیک نیوز ہے اور نہ یہ بات مکمل درست ہے۔۔
ابھی یہ محض حکومتی سطح پر پیش کی جانے والی تجویز ہے جو ابھی مختلف سطحوں پر زیر بحث ہے ۔ لیکن یہ کسے اور کیوں نافذ کی جائے گی؟
پہلے جانتے ہیں کہ مسئلہ کیا ہے ؟مختلف سلیب سسٹم کے تحت دوسو یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے بجلی کے صارفین کو مستحق صارفین تصور کیا گیا یعنی عوام کا وہ طبقہ جو کم وسائل کی بنا پر کم بجلی استعمال کرتا ہے اور اسے حکومتی سبسڈی کا اہل گردانا گیایعنی اگر آپ دو سو سے کم یونٹس استعمال کررہے ہیں تو آپ غریب ہیں اور حکومتی مدد کے اہل ہیں لیکن اگر آپ کی بجلی کا استعمال دوسو سے زائد یونٹس ہیں تو آ پ کا تعلق کھاتے پیتے طبقے سے ہے۔یہاں استعمال شدہ یونٹس کا پیمانہ استعمال کرکے آمدن کا آگہی کی منطق بھی تھی تاہم یہاں اب انٹری ہوتی ہے لیتھئیم بیٹریز کی جو تین سو یونٹس اسٹور کرسکتی ہے اور چھ کلو واٹ سے لے کر دس کلو واٹ کے سولر سسٹمزکی جنہوں نے واپڈا کے بابوؤں کے صدری نسخے سے تیار کردہ اس سسٹم کو تباہ و برباد کردیا۔
فرض کریں کسی کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ماہانہ ہے تو سولر لگانے سے پہلے اس کی صرف شدہ بجلی ڈھائی سو تا تین سو یونٹس ماہانہ تھی جس کا بل بارہ تا تیرہ ہزار تھاتاہم سولر لگانے کےبعد ان کا بل بمشکل ہی دوسو یونٹس کراس کرتا یوں وہ حکومتی مدد کے مستحق ٹہرے اور اب ان کا بل دو تا تین ہزار ہے۔ اور یہ واحد کیس نہیں پچھلے دو تا تین سالوں کے دوران کم یونٹس استعمال کرنے والے شہریوں کی تعداد نوے لاکھ سے بڑھ کردو کروڑدس لاکھ ہوگئی ہے۔
اب حکومتی بزرجمہران کا موقف ہے کہ آمدن کے مطابق بجلی کا بل وقت کی ضرورت ہے کیونکہ آئی پی پیز کا گردشی قرضہ اور آئی ایم ایف کا ڈنڈادونوں صرف عوام کےقسمت میں لکھ دئیے گئے ہیں۔ پہلے انہوں نے عوام کی اضل آمدن جاننے کے لئے یونٹس کی پراکسی استعمال کی اب وہ کوئی اور طریقہ ڈھونڈیں گے، لیکن یہاں اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے حکمرانوں اور ان کے لئے خوش نما تجاویز تیار کرنے والے بابوؤں کو وارننگ ہے کہ لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کے لئے شوق سے بل بجلی کے بڑھائیں لیکن خیال رہے کہ اتنے نہ بڑھائیں کہ وہ سولر سسٹم اورلیتئھیم بیٹریز لگا کر آپ کے واپڈا سسٹم کو خیر آباد ہی کہہ دیں
حکومتی بابوؤں کا نیا ‘صدری نسخہ’: مڈل کلاس کو نچوڑنے کا منصوبہ، کیا اب بجلی کا بل تنخواہ دیکھ کر آئے گا؟

