اٹاواہ:کینیڈا میں نیا امیگریشن قانون منظور، 9 ہزار بھارتی شہریوں سمیت 30 ہزار طلباء کو ملک بدری کا نوٹس جاری کردیا گیا۔
نئے قانون کے مطابق اب کینیڈا آنے کے ایک سال کے اندر پناہ گزین کی حیثیت کے لیے درخواست دینا لازمی ہوگا۔ اس سے پہلے کوئی حد نہیں تھی اور لوگ عدالتی کارروائی کے بہانے سالوں تک کینیڈا میں مقیم رہتے تھے۔
کینیڈین حکومت کی طرف سے منظور کئے گئے نئے امیگریشن بل سی-12 نے وہاں مقیم غیر ملکی طلباء اور مہاجرین کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے تقریباً 30 ہزار لوگوں کو نوٹس جاری کیے ہیں جن میں تقریباً 9 ہزاربھارتی پنجابی شامل ہیں۔ ان سبھی کو نوٹس کا جواب دینے کے لیے 21 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ بصورت دیگرانہیں ملک بدر (ڈیپورٹ) کر دیا جائے گا۔
اب اگر کوئی غیر قانونی طور پر کام کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو ریفیوجی بورڈ میں طویل سماعت نہیں ہوگی۔ قاعدے کی خلاف ورزی کرنے پر براہ راست ملک بدرکرنے کا التزام ہے۔ چونکہ یہ قانون 2025 سے مؤثر مانا گیا ہے اس لیے وہ لوگ جو پہلے سے ہی اپنے ورک پرمٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد ملک میں رہ رہے ہیں، وہ بھی اس کی زد میں آگئے ہیں۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے نوٹس میں واضح طور پر پوچھا ہے کہ ایک سال کے اندر پناہ کے لیے درخواست نہ کرنے پر آپ کی عرضی کو خارج کیوں نہ کر دیا جائے؟ اس سلسلے میں سبھی کو 3 مئی 2026 تک اپنی نااہلی کی وجہ بتانی ہوگی۔ مزید برآں صرف میڈیکل ایمرجنسی یا اپنے آبائی ملک میں جان کو خطرہ جیسی سنگین وجوہات پر غور کیا جائے گا، جس کے لیے ٹھوس دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہوگا۔
نیا امیگریشن بل سی-12 منظور، کینیڈا میں سالوں سے رہائش پذیر ہزاروں طلبا ڈی پورٹ ہوں گے

