کراچی: پاکستان کے مشہور مارننگ شو ‘گڈ مارننگ پاکستان’ میں اس بار موضوعِ بحث ‘گوری رنگت’ کا خبط نہیں بلکہ ‘سانولی رنگت’ کا فخر رہا۔ ندا یاسر نے معاشرے میں پھیلی اس سوچ کو آڑے ہاتھوں لیا جو انسان کی قابلیت کے بجائے اس کی جلد کی رنگت کو اہمیت دیتی ہے۔
علی گل پیرعرف ‘اندھیرا’
معروف کامیڈین علی گل پیر نے اپنے نئے گانے ‘Brown & Black’ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بچپن میں اسکول میں انہیں ‘اندھیرا’ کہہ کر چڑایا جاتا تھا اور لوگ ان کا راستہ کاٹنا بدشگون سمجھتے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انڈسٹری میں آنے کے بعد بھی میک اپ آرٹسٹس زبردستی ان کے چہرے پر فیئرنیس کریموں کی تہیں جمانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ گورے ساتھی اداکاروں کے سامنے ‘کمتر’ نہ لگیں۔
نینا بلیک: "میں نے اپنا نام خود ‘بلیک’ رکھا”
ڈرامہ ‘کابلی پلاؤ’ سے شہرت پانے والی اداکارہ نینا بلیک نے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ وہ بچپن میں اسپورٹس میں دلچسپی کی وجہ سے اپنی بہنوں سے زیادہ سانولی اور دبلی تھیں، جس کی وجہ سے گھر میں بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہوا۔ انہوں نے آٹھویں جماعت میں ہی اپنے نام کے ساتھ ‘Black’ لگا کر اپنی رنگت کو اپنی پہچان بنا لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"رنگت ‘صاف یا گندی’ نہیں ہوتی، بلکہ انسان کے دل صاف یا گندے ہوتے ہیں۔”
پاکستان کی پہلی مس یونیورس، روما ریاض نے کہا کہ عالمی میڈیا میں ہر طرح کی رنگت کو سراہا جاتا ہے لیکن پاکستان میں آکر انہیں احساس ہوا کہ یہاں کے معیارِ حسن بالکل مختلف اور محدود ہیں۔ ماہرِ نفسیات رانا ہیرا نے انکشاف کیا کہ ان کے پاس آنے والے مریض اکثر ڈپریشن اور سوشل اینگزائٹی کا شکار ہوتے ہیں، جس کی اصل جڑ بچپن میں رنگت کی وجہ سے ملنے والے طعنے ہوتے ہیں۔
کیمرہ فلٹرز اور مڈل کلاس کے دکھ
فٹنس انسٹرکٹر مڈی احمد نے ہلکے پھلکے انداز میں بتایا کہ جب فینز ان کے ساتھ سیلفی لیتے ہیں تو وہ پہلا مطالبہ ‘بیوٹی فلٹر’ ہٹانے کا کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کی اصلی رنگت کو چھپا دیتے ہیں۔ انہوں نے وہ واقعہ بھی سنایا جب ایک ماں نے اپنے بچے کو ان کی طرف اشارہ کر کے کہا، "دھوپ میں زیادہ کھیلو گے تو اس جیسے کالے ہو جاؤ گے۔”
پروگرام کا سب سے جذباتی حصہ وہ تھا جب ‘فرزانہ’ نامی خاتون نے اپنی جوان بیٹی عائشہ کے رشتے نہ آنے پر دکھ کا اظہار کیا، جس کی وجہ صرف سانولی رنگت بتائی گئی۔ اسی طرح ساتویں جماعت کی طالبہ ‘انزیلہ’ جو اپنی کلاس میں ٹاپ کرتی ہے، رو پڑی کہ اس کے رشتہ دار اور گھر والے اسے اس کی رنگت کی وجہ سے اسے چڑاتے ہیں۔
ندا یاسر اور تمام مہمانوں نے ان خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ شادی یا دوسروں کی باتوں کے بجائے اپنی تعلیم اور خود مختاری پر توجہ دیں۔ ندا یاسر نے کہا کہ آج کی عورت کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی کی محتاج نہ رہے۔
"رنگ نہیں ، دل کالے ہوتے ہیں!” ندا یاسر کے شو میں ‘معاشرتی تعصب کا کچا چٹھا کھول دیا

