تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے پنجاب کے ضلع قصور کی کہانی محض جرائم کے اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جہاں کبھی انصاف کمزور اور کبھی طاقتور دکھائی دیتا ہے۔ ایک وقت تھا جب قصور میں جرائم کا گراف خطرناک حد تک بلند ہو چکا تھا اور عوامی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہو گیا تھا کہ انصاف کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ادارہ اپنی کارکردگی سے نمایاں ہوا تو وہ سی سی ڈی قصور تھا، جس نے نہ صرف خطرناک جرائم پیشہ عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا بلکہ کئی بڑے کیسز میں وہ نتائج دیے جو مقامی پولیس نہ دے سکی۔ کوٹ رادھا کشن میں شوہر بچوں کے سامنے بیوی سے ڈاکو کی شرمناک واقعہ ہوں یا انٹرنیشنل کبڈی پلیئر ناصر پہلوان کے قتل جیسے سنگین کیسز سی سی ڈی قصور نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا عملی مظاہرہ کیا۔ درجنوں خطرناک گینگز کا خاتمہ اور اشتہاری ملزمان کے خلاف موثر کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر اداروں کو آزادانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنے دیا جائے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ تاہم، قصور کی انتظامی کہانی کا دوسرا رخ کم اہم نہیں۔ سابق ڈی پی او کے دور میں سیاسی مداخلت کے اثرات، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی میں منتخب نمائندوں کی کھلی تنقید، اور سنگین الزامات جیسے معاملات نے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ حیران کن طور پر وہی سیاسی حلقے، جن کی مشاورت سے نظام چلنے کا تاثر تھا، اچانک مخالف بن گئے۔ سابق ڈی پی او نے صورتحال کو بھانپ لیا انہوں نے میٹنگ سے واپس آکر ایس ایچ او کھڈیاں کو تبدیل کر کے اسکے خلاف انکوائری کا حکم صادر فرمایا تب سیاسی شخصیات نے صورتحال کو کنٹرول کرتے ہوئے دباو ڈال کر ایس ایچ او کو رخصت پر بھجوایا۔ اسی غیر یقینی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی۔ اطلاعات کے مطابق، قصور میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا۔ جہاں ایک طرف ڈی پی او کے عہدے کے لیے متعدد افسران ایس ایس پی عمران کھوکھر، رضوان طارق، وسیم ریاض کے انٹرویوز ہوئے، وہیں یہ عمل غیر متوقع طور پر تعطل کا شکار ہو گیا۔ یہیں سے کہانی ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، سی سی کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ نے صورتحال کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے ایک “فیلڈ پروون” افسر کو آگے لانے کا فیصلہ کیا اور سی سی ڈی لاہور کے سربراہ اور دبنگ پولیس افسر آفتاب پھلروان کو قصور کے لیے ٹاسک سونپ دیا اور پھر آئی جی پنجاب سے انکی بطور ڈی پی او قصور پوسٹنگ کی سفارش کی جو آئی جی پنجاب نے یہ فیصلہ کیا جو واضح پیغام تھا کہ جس پر قصور کی سیاست میں بونچھال آگیا ۔ آفتاب پھلروان کو دیا گیا مینڈیٹ بھی غیر معمولی ہے صرف جرائم کا خاتمہ نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں، خواہ وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، کا احتساب۔ اس کے ساتھ ساتھ “انصاف کا بول بالا” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی ہدف کے طور پر سامنے رکھا گیا ہے۔ اگر یہ حکمت عملی واقعی نافذ ہوتی ہے تو قصور میں قانون کی حکمرانی کی ایک نئی مثال قائم ہو سکتی ہے۔ یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ ماضی میں جب سابق ڈی پی او منتظر مہدی نے سخت کارروائیاں کیں تو سیاسی ردعمل سامنے آیا، وکلا کے احتجاج ہوئے، مگر وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ بعدازاں وہی ہوا جو اب تہران اور واشنگٹن کی صورتحال ہے ۔سیاسی شخصیات کی اور وکلا کی ایما پر عدلیہ اور انتظامی افسران نے فریقین میں مصالحت کروائی لیکن ڈی پی او منتظر مہدی نے واضع کیا کہ جھوٹے مقدمات قبضے اور کریمنلز کی سفارش کرنے سے ہرہیز کریں ورنہ انہیں احتجاج کی کوئی پرواہ نہیں تب احتجاج کا سلسلہ رک گیا۔ اس بار فرق یہ ہے کہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت سی سی ڈی اور ضلعی پولیس کو یکجا کر کے ایک مربوط آپریشن کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ قصور اس وقت ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ماضی کی کمزوریاں، سیاسی دباؤ اور متنازع فیصلے ہیں، تو دوسری طرف ایک نئی حکمت عملی، جس میں قیادت، ارادہ اور فیلڈ تجربہ شامل ہے۔ اگر سہیل ظفر چھٹہ کا یہ فیصلہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے اور آفتاب پھلروان اپنے مینڈیٹ کے مطابق اور سی سی ڈی قصور سے ملکر بلاامتیاز کارروائی کرتے ہیں، تو قصور نہ صرف جرائم کے خلاف ایک کامیاب ماڈل بن سکتا ہے بلکہ یہ پورے صوبے کے لیے ایک مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔