اسٹاک ہوم: سویڈن کی حکومت نے ملک میں گرتی ہوئی شرحِ خواندگی (Literacy Levels) کو سنبھالنے کے لیے اسکولوں میں ڈیجیٹل آلات کا استعمال محدود کرنے اور نصابی کتابوں پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق سویڈش حکومت کا ماننا ہے کہ اسکرینوں کے بے جا استعمال نے بچوں کی سیکھنے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔
"اسکرین سے بائنڈر تک” کا سفر
سویڈش حکومت نے ایک نیا نعرہ "Från skärm till pärm” (اسکرین سے بائنڈر تک) متعارف کرایا ہے۔ اس پالیسی کے تحت:
بھاری سرمایہ کاری: حکومت نے اسکولوں کو نئی کتابیں خریدنے کے لیے 200 ملین ڈالر (2.1 بلین سویڈش کرونا) کے فنڈز فراہم کیے ہیں۔
موبائل فون پر پابندی: اس سال کے آخر تک اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔
بنیادی مہارتیں: 2028 تک ایک نیا نصاب لایا جائے گا جس میں صرف کتابوں کے ذریعے پڑھائی پر زور دیا جائے گا۔
ماہرِ اعصاب (Neuroscientist) ڈاکٹر سیسلا نٹلی کا کہنا ہے کہ اسکرینیں بچوں کی توجہ میں خلل ڈالتی ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق، کاغذ پر لکھی تحریر پڑھنا اسکرین کے مقابلے میں معلومات کو یاد رکھنے میں زیادہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سویڈن کے ‘پیسا’ (PISA) رینکنگ میں گرتے ہوئے نمبروں نے بھی حکومت کو اس انتہائی قدم پر مجبور کیا۔
جہاں حکومت اس فیصلے کو ناگزیر قرار دے رہی ہے، وہیں ٹیک انڈسٹری اور کچھ اساتذہ نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ:
مستقبل کی ملازمتیں: مستقبل کی 90 فیصد ملازمتوں کے لیے ڈیجیٹل مہارتیں لازمی ہوں گی۔
معاشی نقصان: سویڈن جو کہ یورپ کا ٹیک ہب ہے، اگر وہاں کے بچے کمپیوٹر سے دور رہے تو ملک کی جدت اور معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ڈیجیٹل تقسیم: غریب بچوں کے پاس گھروں میں کمپیوٹر نہیں ہوتے، اگر اسکول بھی انہیں ٹیکنالوجی نہیں سکھائیں گے تو وہ امیر بچوں سے پیچھے رہ جائیں گے۔
عوامی ردِعمل
اسٹاک ہوم کے ایک ہائی اسکول کے 18 سالہ طالب علم الیکسس کا کہنا ہے کہ "انٹرنیٹ نے نوجوان نسل کی توجہ چھین لی ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرے چھوٹے بہن بھائی اسکرینوں کے اتنے عادی ہوں جتنا ہم تھے۔” تاہم 19 سالہ جیسمین کا ماننا ہے کہ "پوری دنیا کمپیوٹر استعمال کر رہی ہے، ہمیں اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔”
سویڈن کا یہ تجربہ پوری دنیا کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ کیا روایتی کتابیں واقعی ڈیجیٹل ٹیبلٹس سے بہتر ثابت ہوں گی؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
سویڈن : اسکرین کو خیرباد، کتابوں اور قلم کی واپسی – کیا ڈیجیٹل تعلیم کا جادو ٹوٹ گیا؟

