واشنگٹن: امریکی صدر اور اپنی مخصوص منطق کے لیے مشہور ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دنیا کو حیران (اور پریشان) کر دیا ہے۔ اس بار معاملہ کسی پالیسی کا نہیں بلکہ ان کی اپنی ایک ایسی تصویر کا ہے جس نے سوشل میڈیا پر بحث کا طوفان کھڑا کر رکھا تھا۔
تفصیلات کے مطابق، ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کی جانب سے ایک تصویر شیئر کی گئی جس میں وہ بظاہر حضرت عیسیٰؑ (Jesus Christ) کے مشابہ روپ میں نظر آ رہے تھے۔ دنیا بھر کے لوگ اسے ٹرمپ کا ’مسیحائی کمپلیکس‘ قرار دے رہے تھے، لیکن جب ایک رپورٹر نے ان سے سیدھا سوال کیا تو ٹرمپ نے ایسی ’طبی‘ وضاحت پیش کی کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔
President Trump claims the viral image that was posted on Truth was not a depiction of him as Jesus Christ but was him being depicted as a doctor.
Reporter: Did you post that picture of yourself depicted as Jesus Christ?
Trump: I did post it, and I thought it was me as a doctor… pic.twitter.com/4pfSRFPdrp
— Collin Rugg (@CollinRugg) April 13, 2026
”میں تو انسانیت کا خادم بننا چاہتا تھا“
رپورٹر نے پوچھا: ”کیا آپ نے خود کو حضرت عیسیٰؑ کے روپ میں دکھانے والی تصویر پوسٹ کی ہے؟“
ٹرمپ نے جواب دیا:
”میں نے اسے پوسٹ ضرور کیا، لیکن میرا خیال تھا کہ اس تصویر میں، میں ایک ڈاکٹر بنا ہوا ہوں۔ میرا تو یہ خیال تھا کہ یہ ریڈ کراس کا کوئی کارکن ہے جو وہاں موجود ہے، اور ہم ریڈ کراس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔“
عوامی ردِعمل: ڈاکٹر ٹرمپ یا معجزاتی ٹرمپ؟
ٹرمپ کی اس وضاحت کے بعد سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ شاید دنیا کے پہلے ایسے انسان ہیں جنہیں دو ہزار سال پرانے لبادے اور میڈیکل ایپرن میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا تبصرہ: ایک صارف نے لکھا، ”اگر ٹرمپ کو وہ تصویر ڈاکٹر کی لگ رہی تھی، تو شاید وہ دنیا کا علاج ’معجزوں‘ سے کرنا چاہتے ہیں۔“
کچھ لوگوں نے طنزاً پوچھا کہ کیا اب ریڈ کراس کے ڈاکٹرز سٹیتھوسکوپ کے بجائے ’روحانی طاقتوں‘ سے مریضوں کا معائنہ کریں گے؟
ماہرینِ نفسیات اور سیاسی مبصرین اس بیان کو ٹرمپ کی اس پرانی عادت کا حصہ قرار دے رہے ہیں جہاں وہ کسی بھی متنازع بات کو ایک ایسی ’سادہ لوحی‘ کا رنگ دے دیتے ہیں کہ حامی اسے ان کی معصومیت اور مخالفین اسے ان کی چالاکی سمجھ کر سر دھنتے رہ جاتے ہیں۔
لبِ لباب یہ ہے کہ: ٹرمپ اب ’مسیحا‘ ہوں یا ’ڈاکٹر‘، انہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ خبروں میں رہنا اور لوگوں کو الجھائے رکھنا بخوبی جانتے ہیں۔
دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ صدرڈونلڈ ٹرمپ نے انتہاپسند عیسائیوں کی طرف سےملنے والی دھمکیوں کے بعد اس تصویر پر معذرت کی ہے کیونکہ انہوں نے تصویر نہ ہٹانے اور غیرمشروط معافی نہ مانگنےزپر صدر ٹرمپ کے لئے اپنی حمایت واپس لینے کااعلان کیاتھا۔
🚨BREAKING The Knights Templar Order and its ruling Council demand that this offensive and blasphemous image be removed forthwith !
We supported President Trump in 2016 and 2024 (NY Times attributed our support in 2016 to be part of his victory)
However we are deeply offended… pic.twitter.com/l4Ql0MFYXF— Knights Templar International (@KnightsTempOrg) April 13, 2026

