فلوریڈا: سابقہ تمام روایات اور سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ویٹیکن کے سربراہ پوپ لیو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے نہ صرف پوپ کے امن پسندی کے مشوروں کو مسترد کر دیا بلکہ سوشل میڈیا پر اپنی ایک ایسی ‘مقدس’ تصویر شیئر کی جس نے پوری دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
New media post from Donald J. Trump
(TS: 12 Apr 21:49 ET) pic.twitter.com/uWUoEG1bSQ
— Commentary: Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) April 13, 2026
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک اے آئی سے تیار کردہ تصویر پوسٹ کی جس میں وہ یسوع مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) کے روایتی بائبلی لباس میں ملبوس دکھائے گئے ہیں۔ تصویر میں ٹرمپ کے سر کے گرد ایک چمکتا ہوا ہالہ ہے اور وہ ایک بیمار شخص کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اسے ‘شفا’ دے رہے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔
تصویر کی خاص بات اس کا پس منظر ہے، جہاں ایک طرف امریکی جھنڈا اور اسٹیچو آف لبرٹی موجود ہیں، وہیں دوسری طرف جدید جنگی جہاز اور بحری بیڑے بھی دکھائے گئے ہیں، جو شاید اس بات کی علامت ہیں کہ ٹرمپ کی ‘مسیحائی’ طاقت اور جنگ کے ہتھیاروں سے جڑی ہوئی ہے۔
پوپ لیو نے سنیچر کے روز ایران میں جاری امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو "قادرِ مطلق ہونے کا وہم” قرار دیا تھا، جس پر ٹرمپ نے اتوار کو شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا:
"مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو ریاستہائے متحدہ کے صدر پر تنقید کرے۔ میں بالکل وہی کر رہا ہوں جس کے لیے مجھے عوام نے منتخب کیا تھا۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے خود کو ایک الٰہی شخصیت یا ‘مسیحا’ کے طور پر پیش کرنا ان کے اس خاص ووٹر گروپ کو راغب کرنے کی کوشش ہے جو انہیں "خدا کا چنا ہوا سپاہی” سمجھتا ہے۔ تاہم، مذہبی اسکالرز نے اس تصویر کو "مقدس شخصیات کی توہین” اور "مذہب کا سیاسی استعمال” قرار دیتے ہوئے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران، صدر ٹرمپ کا یہ نیا ‘مذہبی کارڈ’ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب پوپ جیسے عالمی قد آور مذہبی رہنماؤں کے سامنے بھی جھکنے کو تیار نہیں ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران میں امریکہ اسرائیل جنگ کے خلاف پوپ لیو کے تبصروں پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا، مزید برآں، اے آئی سے تیار کردہ ایک تصویر شیئر کر کے خود کو یسوع مسیح کے طور پر پیش کیا۔

