تہران :اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے قبل میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مذاکرات کے لیے ضروری نیت اور ارادہ موجود ہے، لیکن گذشتہ دو جنگوں کے تجربات کے باعث ہمیں مخالف فریق پر بھروسہ نہیں۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر قالیباف نے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بات چیت کے دوران ایرانی وفد میں شامل میرے ساتھیوں نے مختلف تجاویز پیش کیں تاہم مخالف فریق مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔
۱/پیش از مذاکرات تأکید کردم که ما حسن نیت و ارادهٔ لازم را داریم ولی به دلیل تجربیات دو جنگ قبلی، اعتمادی به طرف مقابل نداریم.
همکاران من در هیئت ایرانی میناب۱۶۸ ابتکارات رو به جلویی مطرح کردند ولی طرف مقابل در نهایت نتوانست در این دور از مذاکرات اعتماد هیئت ایرانی را جلب کند.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 12, 2026
ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ہمارے منطق اور اصولوں کے متعلق اندازہ ہو گیا ہے، اب فیصلہ انھوں نے کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں کہ نہیں۔
قالیباف کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم کے حقوق کے دفاع کے لیے وہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ فوجی جدوجہد پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چالیس دن کی جنگ کے دوران ایرانی قوم کے دفاع میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انھوں نے مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کے لیے اہم کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے ایرانی وفد میں شامل اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’بہت خوب، خدا آپ کو مزید ہمت دے۔‘

