واشنگٹن ڈی سی:امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک ترین حد تک پہنچ گئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف غیر معمولی اور انتہائی سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آج رات ایک مکمل تہذیب کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس ہولناک بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔

”آج رات ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی، جو کبھی واپس نہیں آئے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن شاید ایسا ہو جائے۔“
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ رات عالمی تاریخ کے ”اہم ترین لمحات“ میں سے ایک ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کے بقول گزشتہ 47 برسوں سے جاری ”بلیک میلنگ، بدعنوانی اور دھمکیوں“ کا دور اب ختم ہونے والا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو ایک بار پھر واشگاف الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو امریکہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ٹرمپ کے مطابق، ایسی صورت میں امریکہ ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول بجلی گھروں اور پلوں، کو نشانہ بنائے گا۔
عالمی حلقوں کے لیے سب سے زیادہ تشویشناک بات ٹرمپ کا یہ اعتراف تھا کہ وہ ممکنہ جنگی جرائم کے خدشات سے ”بالکل فکر مند نہیں“ ہیں۔ ان کے اس بے باک بیان پر مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی وارننگ
دوسری جانب، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ شہری انفراسٹرکچر پر حملے بین الاقوامی قانون کے تحت سختی سے ممنوع ہیں۔ ان کے ترجمان کے مطابق، کسی بھی ملک کی جانب سے شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی شمار ہوگا، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

