اسلام آباد / قاہرہ / انقرہ: ایران اور امریکا کے درمیان برف پگھلنے لگی؛ دو مراحل پر مشتمل ‘سیز فائر’ پلان کی تفصیلات منظرِ عام پر، کیا دنیا ایک بڑے عالمی تصادم سے بچ جائے گی؟
پاکستان، ترکی اور مصر نے مشترکہ طور پر ایک ایسا ‘ثالثی مشن’ تشکیل دیا ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان جاری ہولناک جنگ کو مستقل خاموشی میں بدل سکتا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، اس وقت پردے کے پیچھے ایک 45 روزہ عارضی جنگ بندی (Ceasefire) پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بندوقوں کو خاموش کر کے میز پر بات چیت کا آغاز کرنا ہے۔
جنگ بندی کا ‘دو مرحلہ وار’ ماسٹر پلان
ذرائع کے مطابق یہ مجوزہ امن معاہدہ کسی ایک دن کا معجزہ نہیں بلکہ دو منظم مراحل پر مشتمل ہوگا:
پہلا مرحلہ (45 روزہ عارضی سیز فائر): ابتدائی طور پر 45 دنوں کے لیے تمام محاذوں پر جنگ روک دی جائے گی۔ اس ڈیڑھ ماہ کے دوران فریقین ایک دوسرے پر حملے نہیں کریں گے۔ اس مرحلے کا اصل مقصد ‘اعتماد سازی’ (Confidence Building) ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہری خلیج کو کم کیا جا سکے۔
دوسرا مرحلہ (مستقل امن معاہدہ): اگر 45 دن کا یہ تجربہ کامیاب رہا اور فریقین نے تحمل کا مظاہرہ کیا، تو دوسرے مرحلے میں ایک باضابطہ اور مستقل ‘امن معاہدہ’ طے کیا جائے گا، جس سے اس تباہ کن جنگ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔
ثالثوں کا کلیدی کردار
پاکستان، ترکی اور مصر کے سفارت کاروں نے اس فارمولے کو حتمی شکل دینے کے لیے دن رات ایک کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تینوں اسلامی ممالک کے امریکا اور ایران، دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات اس مشن کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ بن سکتے ہیں۔ اگر مذاکرات کے دوران مزید وقت کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس 45 روزہ مدت میں توسیع کا آپشن بھی کھلا رکھا گیا ہے۔
عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ 45 دن دنیا کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر یہ سیز فائر عمل میں آ جاتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور خطے میں انسانی جانوں کا ضیاع رک جائے گا۔ تاہم، سب سے بڑا چیلنج ان ‘مٹھی بھر’ عناصر کو لگام دینا ہوگا جو امن کی ان کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔
عالمی امن کی آخری امید:45 روزہ جنگ بندی کے لیے پاکستان، ترکی اور مصر کی مشترکہ کوشش!

