فلوریڈا : انسانی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے ناسا نے بدھ کے روز فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اپنا تاریخی آرٹیمس ٹو (Artemis II) مشن کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا ہے۔ اپالو مشن کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انسان ایک بار پھر چاند کی حدود میں داخل ہونے کے لیے زمین سے روانہ ہوا ہے۔
Liftoff.
The Artemis II mission launched from @NASAKennedy at 6:35pm ET (2235 UTC), propelling four astronauts on a journey around the Moon.
Artemis II will pave the way for future Moon landings, as well as the next giant leap — astronauts on Mars. pic.twitter.com/ENQA4RTqAc
— NASA (@NASA) April 1, 2026
یکم اپریل کی شام 6:35 پر ہونے والی اس لانچنگ کے بعد ‘اوریون’ کیپسول راکٹ سے کامیابی سے الگ ہو کر زمین کے گرد مدار میں داخل ہو چکا ہے۔ :
ابتدائی مرحلہ: پہلے دو دن خلا باز زمین کے مدار میں قیام کریں گے تاکہ جہاز کے تمام سسٹمز کی باریک بینی سے جانچ کی جا سکے۔
چاند کی جانب پیش قدمی: سسٹمز چیک کرنے کے بعد یہ چاروں خلا باز چاند کی جانب اپنے سفر کا آغاز کریں گے، جو کہ دہائیوں بعد کسی بھی انسانی فلائٹ کا زمین سے طویل ترین فاصلہ ہوگا۔
مون فلائی بائی (Moon Fly-by): اوریون کیپسول چاند کے عقب سے گزرے گا اور ایک قدرتی راستے (Free-return Trajectory) کے ذریعے بغیر اضافی ایندھن کے زمین کی طرف واپس مڑے گا۔
مشن کے ‘جانباز’ خلا باز
اس تاریخی سفر پر روانہ ہونے والے چار رکنی عملے میں شامل ہیں:
ریڈ وائز مین (ناسا)
وکٹر گلوور (ناسا)
کرسٹینا کوچ (ناسا)
جیریمی ہینسن (کینیڈین اسپیس ایجنسی)
مشن کا سب سے کٹھن امتحان اس وقت ہوگا جب اوریون کیپسول 40,233 کلومیٹر فی گھنٹہ کی برق رفتار سے زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہوگا۔ اس دوران کیپسول کی ‘ہیٹ شیلڈ’ کا امتحان ہوگا جو اسے شدید ترین درجہ حرارت سے بچائے گی۔ آخر میں یہ مشن بحر الکاہل (Pacific Ocean) میں گرے گا جہاں بحالی کی ٹیمیں خلا بازوں کا استقبال کریں گی۔

