لندن/نیویارک: عالمی معیشت کی شہ رگ "آبنائے ہرمز” کی بندش پر دنیا بھر کے بڑے ممالک میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، امریکا کے قریبی اتحادیوں نے ایران کو یہ اہم آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنے کے لیے ایک بڑے سفارتی محاذ کا آغاز کر دیا ہے، جس میں ناکامی کی صورت میں ایران پر نئی اور سخت ترین عالمی پابندیوں کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کا ایک اہم اجلاس منعقد کرے گا جس میں تزویراتی اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا، جو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث متاثر ہو چکی ہے۔
سٹارمر کے مطابق اجلاس میں ایسے تمام سفارتی اور سیاسی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا جن کے ذریعے آزادانہ جہاز رانی بحال کی جا سکے، پھنسے ہوئے جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور اہم اشیاء کی ترسیل دوبارہ شروع کی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اجلاس کے بعد فوجی ماہرین کو بھی اکٹھا کیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ لڑائی ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو محفوظ اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
برطانیہ کی قیادت میں 35 ممالک کا ‘ہنگامی’ اتحاد
برطانوی وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر منگل کے روز ایک اہم ورچوئل اجلاس کی صدارت کریں گی، جس میں دنیا بھر کے تقریباً 35 ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کا واحد ایجنڈا آبنائے ہرمز میں "جہاز رانی کی آزادی” کو بحال کرنا اور ایران پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ اس تزویراتی گزرگاہ سے عالمی تجارتی جہازوں کا راستہ نہ روکے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ اتحاد محض باتوں تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر ایران نے سفارتی کوششوں کو خاطر میں نہ لایا اور آبنائے ہرمز کو بند رکھا، تو یہ 35 ممالک مشترکہ طور پر ایران کے خلاف سخت معاشی اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ایران پر عالمی دباؤ کو اس حد تک بڑھانا ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں مداخلت بند کر دے۔
امریکا کی ‘پراسرار’ غیر حاضری
اس پوری صورتحال میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں برطانیہ اور دیگر اتحادی ایران کے خلاف صف آراء ہو رہے ہیں، وہیں ریاستہائے متحدہ امریکا اس اہم اجلاس میں شرکت نہیں کر رہا۔ بلومبرگ کے مطابق، اس ورچوئل میٹنگ میں واشنگٹن کی عدم موجودگی نے کئی سفارتی سوالات کو جنم دیا ہے، تاہم اتحادیوں کا عزم ہے کہ وہ امریکا کے بغیر بھی اس مشن کو آگے بڑھائیں گے۔
آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم کرو! 35 ممالک کا ایران کو ‘الٹی میٹم’، برطانیہ کی قیادت میں بڑا سفارتی ایکشن ، امریکا منظر سے غائب!

