بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک): چین نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دے دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مزید شدید حملوں کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
بیجنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تنازعات میں مسلسل اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
"ہم متعلقہ فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں بند کریں اور مذاکرات کی میز پر آئیں،” ماؤ ننگ نے میڈیا کو بتایا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر قبضے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے دیگر ممالک کو دی گئی کال پر تبصرہ کرتے ہوئے چینی ترجمان نے دوٹوک موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا:عالمی آبی گزرگاہ (آبنائے ہرمز) میں جہاز رانی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی اصل بنیاد ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے غیر قانونی حملے ہیں۔
اگر امریکا خطے میں امن اور محفوظ تجارت چاہتا ہے تو اسے اشتعال انگیزی اور یکطرفہ حملوں کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ایران کے خلاف مزید "بھاری حملوں” کی دھمکی دے چکے ہیں۔ چین، جو ایران کے تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، اس جنگ کے نتیجے میں اپنی توانائی کی سپلائی لائن متاثر ہونے پر شدید فکر مند ہے
آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کی جڑ امریکا ،اسرائیل کے غیر قانونی حملے ہیں“؛ چین کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ

