واشنگٹن : ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کے آغاز کو ایک ماہ بیت گیا، مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات نے خود امریکیوں اور اتحادیوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔
کبھی وہ اتحادیوں کے سامنے مدد کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور کبھی انہیں ‘بزدل’ قرار دے کر اکیلے جنگ جیتنے کے دعوے کرتے ہیں۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کے لیے "TACO” (Trump Always Chicken Out) یعنی "ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں” کی طنز آمیز اصطلاح ٹرینڈ کر رہی ہے۔
آبنائے ہرمز: کبھی منتیں، کبھی دھمکیاں
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے پہلے یورپی ممالک اور جنوبی کوریا سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے بحری جہاز مانگے، لیکن سرد ردِعمل ملنے پر فوراً پینترا بدل لیا اور کہا، "ہمیں کسی کی ضرورت نہیں، ہم دنیا کی سب سے مضبوط فوج ہیں۔” انہوں نے برطانیہ کو طنزاً مشورہ دیا کہ وہ ہمت پیدا کرے اور اپنا تیل خود حاصل کرے یا پھر امریکا سے خریدے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس تباہ کرنے کی دھمکی دی، مگر 48 گھنٹے گزرنے سے پہلے ہی حملے کو پہلے 5 اور پھر 15 دن کے لیے ملتوی کر دیا۔ ماہرینِ نفسیات اور مورخین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ تزویراتی منصوبوں کے بجائے "جذباتی” فیصلے کر رہے ہیں۔ تجزیہ کار فرید زکریا کے مطابق، "امریکی ساکھ اب ایک ریئیلٹی شو بن کر رہ گئی ہے جہاں اداکار روزانہ نیا بحران پیدا کرتا ہے۔”
عوامی سروے: قوم تقسیم، ٹرمپ کا اپنا ہی دعویٰ
پیو ریسرچ (Pew Research) کے مطابق 61 فیصد امریکی ٹرمپ کے جنگی طرزِ عمل سے ناخوش ہیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے ان تمام سرویز کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ووٹرز کے درمیان ان کی حمایت 100 فیصد ہے۔
ریپبلکنز: 79 فیصد سمجھتے ہیں کہ اس جنگ سے دنیا محفوظ ہو جائے گی۔
ڈیموکریٹس: 90 فیصد نے حملے کے فیصلے کو غلط قرار دیا ہے۔
حیرت انگیز طور پر ریپبلکن اراکینِ کانگریس بھی الجھن کا شکار ہیں۔ ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے شکایت کی ہے کہ پینٹاگون کے حکام بند کمرہ بریفنگ میں بھی سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں دے رہے، جبکہ نینسی میس جیسے رہنماؤں نے ایران میں کسی بھی زمینی کارروائی کی مخالفت کر دی ہے۔
ٹرمپ یا ‘ٹیکو’ (TACO)؟ ایران جنگ پر امریکی صدر کے پل پل بدلتے بیانات؛ ‘ سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان!

