کوچی : بھارتی فلم انڈسٹری بالخصوص ملیالم سینما اس وقت شدید صدمے اور ہیجان کی گرفت میں ہے جب ایک ابھرتی ہوئی نوجوان اداکارہ کی جانب سے جنسی زیادتی کے سنگین الزامات پر نامور ہدایت کار رنجیت کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے یہ ڈرامائی کارروائی اس وقت کی جب ہدایت کار شوٹنگ مکمل کر کے واپس لوٹ رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق ایرناکولم سینٹرل پولیس نے ایک فلمی اداکارہ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا تھا، جو اس وقت رنجیت کی ہی ہدایت کاری میں بننے والی فلم میں کام کر رہی ہیں۔
رنجیت جب تھوڈپوزا میں شوٹنگ ختم کر کے اپنی گاڑی میں واپس آ رہے تھے، تو پولیس نے راستے میں ناکہ بندی کر کے انہیں روک لیا اور اپنی تحویل میں لے لیا۔
گرفتاری کے بعد انہیں رات گئے کوچی میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں 14 دن کے لیے عدالتی تحویل (جوڈیشل ریمانڈ) میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
متاثرہ اداکارہ نے اپنی شکایت میں الزام لگایا ہے کہ ہدایت کار نے نہ صرف شوٹنگ کے مقامات پر بلکہ کوٹائم اور ایرناکولم کے ایک ہوٹل میں بھی ان پر حملہ کرنے اور جنسی زیادتی کی کوشش کی۔
انصاف کے لیے جدوجہد: اداکارہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے فلم سیٹ پر موجود ‘اندرونی شکایات کمیٹی’ سے رابطہ کیا تھا، لیکن وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ جس کے بعد انہوں نے ہمت جمع کر کے ریاستی پولیس سربراہ، کمشنر اور خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) کو باقاعدہ درخواست دی۔
اس گرفتاری کے بعد ملیالم فلم انڈسٹری میں سناٹا چھا گیا ہے۔ رنجیت پر خاتون کی عزت و حرمت پامال کرنے اور جنسی حملے کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور شوبز سے وابستہ خواتین نے اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فلمی دنیا میں کام کرنے والی خواتین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

