واشنگٹن/لندن : دنیا ابھی کورونا کے پچھلے زخموں سے سنبھلی ہی تھی کہ وائرس کی ایک نئی اور انتہائی طاقتور قسم BA.3.2 نے دستک دے دی ہے۔ اس نئی قسم کو ماہرین نے ’سیکاڈا‘ (Cicada) کا نام دیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ وائرس موجودہ ویکسینز کو چکمہ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق اس قسم کی پہلی بار جنوبی افریقہ میں نومبر 2024 میں پتہ چلا تھا اور اب تک امریکا سمیت 23 ممالک میں اس کی تصدیق ہو چکی ہے
اسے ‘سیکاڈا’ کیوں کہا جا رہا ہے؟
جس طرح سیکاڈا نامی کیڑا طویل عرصے تک زمین کے نیچے چھپا رہتا ہے اور اچانک باہر نکلتا ہے، اسی طرح یہ وائرس بھی تقریباً چار سال تک خاموش رہنے کے بعد اچانک ایک نئی اور تبدیل شدہ شکل میں سامنے آیا ہے۔ یہ Omicron فیملی کا حصہ ہے لیکن اس کی جینیاتی ساخت (Mutations) پچھلی تمام اقسام سے بہت مختلف اور پیچیدہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کو کورونا وائرس اس قسم کے بارے میں الرٹ کردیا گیا ہے۔ یہ نئی قسم اومیکران خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ تاہم، 70 سے زیادہ تغیرات کی وجہ سے، یہ نیا قسم تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ماہرین صحت کا خیال ہے کہ اس کے ساخت میں ہونے والی ان بڑی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ وائرس مزید تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
موجودہ تمام ویکسین بے اثر؟
طبی ماہرین، بشمول ڈاکٹر مارک جے خان، نے خبردار کیا ہے کہ سیکاڈا وائرس میں ایسی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جو اسے 2025-2026 کے لیے تیار کردہ تازہ ترین ویکسینز کے خلاف بھی مزاحمت کے قابل بنا سکتی ہیں۔حتیٰ کہ ویکسین شدہ افراد میں بھی شامل ہیں۔ شاذ و نادر صورتوں میں، بو یا ذائقہ میں کمی کے ساتھ ساتھ رات کے پسینے کا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے۔یہ وائرس پہلی بار نومبر 2024 میں جنوبی افریقہ میں پایا گیا تھا اور اب یہ امریکہ سمیت 25 ممالک کے فضلے (Wastewater) میں پایا جا چکا ہے۔
یورپ میں صورتحال زیادہ سنگین ہے جہاں حالیہ ڈیٹا کے مطابق 30 فیصد کیسز اسی نئی قسم کے ہیں۔
سیکاڈا کی علامات
ماہرین کے مطابق اس کی علامات عام کورونا جیسی ہی ہیں، تاہم ان کی شدت مختلف ہو سکتی ہے:
شدید گلے کی سوزش (سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والی علامت)
تیز بخار یا سردی لگنا۔
کھانسی اور سانس لینے میں دشواری۔
تھکن، جسم میں درد اور سر درد۔
سونگھنے یا چکھنے کی حس کا ختم ہونا۔
تحفظ کیسے ممکن ہے؟
ڈاکٹر رابرٹ ایچ ہاپکنز کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ وائرس ویکسین کے حفاظتی حصار کو توڑنے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن ویکسین اب بھی انسان کو شدید بیماری اور ہسپتال داخل ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
احتیاطی تدابیر: ماسک کا استعمال، سماجی فاصلہ، اور بار بار ہاتھ دھونا اب بھی اس وائرس کے خلاف بہترین ڈھال ہیں۔
سیکاڈا وائرس کا ظہور اس بات کی علامت ہے کہ کورونا وائرس ختم نہیں ہوا بلکہ خود کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل بدل رہا ہے۔ 2026 کا یہ سال عالمی صحت کے نظام کے لیے ایک نیا امتحان ثابت ہو سکتا ہے، جہاں سائنسدانوں کو وائرس کی اس ‘خاموش مگر مہلک’ واپسی کا توڑ نکالنا ہوگا۔
کورونا کی نئی ‘خطرناک’ شکل: ‘سیکاڈا’ وائرس نے سر اٹھا لیا! امریکا سمیت 25 ممالک متاثر

