تحریر:ملک محمد سلمان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
انسان فطری طور پر خود غرض اور مطلبی ہے، سائنس کے مطابق انسان اور کتے کا تعلق کم از کم 15 ہزار سال پرانا ہے، جو اس رشتے کی گہرائی اور ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم کو ظاہر کرتا ہے۔ جب انسان غار میں رہا کرتا تھا تب اُسے شکار کے لیے ایسے ساتھی کی ضرورت پڑتی تھی جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ تب کتا انسان کی زندگی میں آیا اور دونوں میں دوستی کا رشتہ قائم ہوا۔
اسی طرح بلی کو بھی پالتو کا درجہ 6000 سال قبل تب ملا جب انسان نے کاشکاری شروع کی، کیڑے مکوڑوں اور چوہوں پر قابو پانے کے لیے بلیاں کارآمد ثابت ہوئیں۔
کتا انسان کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتا ہے، اگر گھر بدل جائے تو وہ پرانے گھر کو چھوڑ کر مالک کے ساتھ نئے گھر چلا جاتا ہے۔
کتا انتہائی وفادار ساتھی ہے۔ وہ کسی بھی مشکل گھڑی میں اپنے مالک کو چھوڑ کر نہیں جاتا۔
کتے اور انسانوں کی دوستی ہزاروں سال پرانی ہے، جس کے باعث کتے انسانوں کے ساتھ رہنے اور ان کی زندگی کا حصہ بننے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ وفادار جانور صدیوں سے انسانوں کے ساتھ مل کر شکار، گھر کی حفاظت اور جذباتی دوست کے طور پر رہ رہے ہیں اور انسان پر انحصار کرتے ہیں۔ تمام جانوروں میں کتوں کا انسانوں کے ساتھ رہن سہن سب سے زیادہ دوستانہ ہوتا ہے۔کتے انسانوں کے ساتھ ملنے اور انہیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔
بے شمار واقعات ہیں جہاں کتوں نے انسانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے جان دے دی۔ لیکن انسان انتہائی ناشکرا ہے 99نیکیاں بھول جاتا ہے اور ایک برائی یاد رکھتا ہے۔
کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کردینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں یہ ہزاروں سال سے انسانوں کے ساتھ رہنے کے عادی ہیں انکو انسانوں سے دور نہ کرو، ظالمو تم نے چند سال بعد مر جانا ہے لیکن یہ انسانیت دشمنی کی لعنت بعد ازمرگ بھی تاریخ کی صورت لعنت بن کر تمہاری نسلوں کا پیچھا کرے گی۔ اس لیے کتوں مارنے اور ان کے کیلئے شہر سے باہر شیلٹر ہوم بنانے کی بجائے ان کی ویکسینیشن کرو۔ شیلٹر ہوم کے نام پر جو "مال” تمہیں نظر آرہا ہے اس لالچ نے تم سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ مغربی ممالک میں جتنے بھی شیلٹر ہوم ہیں وہ انسانی آبادی میں بنائے جاتے ہیں صرف موذی مرض میں مبتلا کتوں کیلئے ریہبلیٹیشن سینٹر دوردراز جگہ ہوتے ہیں۔
ہم سب کو یاد کرنا چاہئے کہ بچپن میں ان بے گھر و بے زبان کتوں کیلئے ہمارے گھروں میں لازم روٹی پکتی ہوتی تھی، مزے کی بات یہ ہوتی تھی کہ عین مغرب کے وقت کتے گھر کے دروازے کے باہر بیٹھ کر انتظار کرتے تھے اور جیسے ہی انکو روٹی دینی وہ دم ہلا کر شکریہ ادا کرکے چلے جاتے تھے۔
دنیا میں سب سے زیادہ پالتو کتے امریکہ، چین اور روس میں پائے جاتے ہیں۔ کتے امریکی ثقافت اور گھرانوں کا اہم حصہ ہیں، جن کی دیکھ بھال اور ان کے جذبات کو سمجھنے کے لیے خصوصی تحقیق بھی کی جاتی ہے۔
قدیم یونانی ادب سمیت دنیا بھر کے ادب میں کتوں کا مثبت ذکر موجود ہے۔ مشہور ہیلتھ ویب سائیٹ ”بولڈ اسکائی‘‘ کے مطابق ایسے افراد جو گھروں میں پالتو کتوں کو رکھنے کا شوق رکھتے ہیں ان کی صحت دوسرے لوگوں کی نسبت بہتر رہتی ہے۔
انسان کے علاوہ ہر حیوان یا جاندار صرف خطرے کی صورت میں یا بھوک سے مغلوب ہوکر ہی کسی دوسرے جاندار پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ان بے زبانوں کو روٹی ملنی چاہئے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔
زخمی اور بیمار کتوں کو ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فرام کیا جائے۔
جبکہ صحت مند کتوں کو ویکسینیشن اور ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے نا کہ ان کا قتل عام اور شہرسے باہر جنگل میں چھوڑ آنا۔
حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔
بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔
اہم سوال ہے کہ برتھ کنٹرول اور ویکسینیشن میں ناکامی پر متعلقہ محکموں اور سرکاری ملازمین کا احتساب کرنے کی بجائے انہی کو منصف بنا کر معصوم کتوں کی نسل کشی پر لگا دینا بدترین ظلم اور بدیانتی نہیں؟
اگر ان معصوم جانوروں کو ویکسینیشن اور علاج معالجہ کی سہولتیں نہیں ملنی تو تمام تحصیلوں میں ویٹنری ہسپتال اور مانٹیرنگ کمیٹیاں صرف دکھاوے اور کرپشن کیلئے بنائی جاتی ہیں؟

