واشنگٹن: دنیا کے طاقتور ترین تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی (FBI) کے ڈائریکٹر کش پٹیل سائبر حملے کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایران سے وابستہ ہیکرز کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کش پٹیل کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے اور ان کی نجی تصاویر سمیت حساس دستاویزات آن لائن شائع کر دی ہیں۔
‘حنظلہ’ کا حملہ: کیا کچھ چوری ہوا؟
خود کو ‘حنظلہ’ (Handala) کہلانے والے ہیکرز کے گروپ نے اس ہیکنگ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گروپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کش پٹیل کے ان باکس کو مکمل طور پر ہیک کر لیا ہے۔ انٹرنیٹ پر جاری کی گئی فائلز میں درج ذیل مواد شامل ہے:
ڈائریکٹر ایف بی آئی کی نجی تصاویر۔
اہم مراسلات اور ای میلز۔
مختلف حساس نوعیت کی دستاویزات۔
امریکی وزارتِ انصاف کا اعتراف
غیرملکی خبر رساں ادارے مطابق، امریکی وزارتِ انصاف (Department of Justice) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ہیکرز کی جانب سے جاری کیا گیا مواد "اصلی اور مستند” معلوم ہوتا ہے۔ یہ انکشاف امریکی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ڈھانچے کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
"یہ محض ایک ای میل ہیکنگ نہیں بلکہ امریکہ کے سب سے بڑے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سربراہ کی سیکیورٹی میں ایک سنگین نقب ہے۔” — سائبر سیکیورٹی تجزیہ کار
اس انتہائی حساس معاملے پر فی الحال ایف بی آئی کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ ادارے نے تبصرے کی درخواستوں پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے، جس سے صورتحال مزید پراسرار ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ کش پٹیل، جو کہ صدر ٹرمپ کے انتہائی قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، ان کا ذاتی ڈیٹا لیک ہونا مستقبل میں مزید سفارتی اور سیکیورٹی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔
ایف بی آئی چیف کا ذاتی ای میل ہیک: ایرانی ہیکرز کا بڑا وار، کش پٹیل کی نجی تصاویر اور خفیہ دستاویزات انٹرنیٹ پر وائرل!

