تحریر:ملک محمد سلمان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
عید کے روز لاہور میں آٹھ سال کی معصوم بچی کی کتوں کے کاٹنے سے ہلاکت سے لیکر اب تک لاہور سمیت پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے ڈی سی شپ بچانے کیلئے معصوم و بے گھر کتوں کی لاشوں کے ڈھیڑ لگا دیے۔
ڈی سی شپ بچانے کا واحد معیار کتے مارنا رہ گیا ہے؟
لاہور مین ہول میں بچے کی ہلاکت پر میڈم وزیراعلیٰ کی بلند و بانگ پریس کانفرنس کے باوجود ضلعی انتظامہ اور ایل ڈی اے کے چپڑاسی تک کو سزا نہیں ہوئی اس کے برعکس لودھراں اور قصور میں کھلے مین ہول کی وجہ سے ہونے والی ہلاکت پر فوری طور پر ڈی سی معطل ہوئے تھے۔
لاہور مین ہول کے ڈھکن لگانے اور سٹریٹ لائٹ لگانے میں ناکامی پر رینکرز کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کے انتظامی افسران کو بھی سزا دینی چاہئے تھی تاکہ عوام کو یقین ہو کہ وزیراعلیٰ کی ترجیح عوام ہے نہ کہ بیوروکریسی۔
میڈم وزیراعلیٰ آپ کے صوبے سے کتنی بڑی ریاست کا حکمران تو یہ کہتا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمرؓتمہیں اللہ کو حساب دینا ہوگا۔ جس تعداد میں اور جس بیہمانہ طریقے سے ان بے زبان کتوں کو مارا گیا ہے مجھے ڈر ہے کہ دنیا کے مہذب ممالک اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں ہمیں بے زبان جانوروں کے قاتل، وحشیوں اور درندوں کی سٹیٹ ڈکلئیر کردیں گے۔
بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں تھا بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔ لیکن ڈپٹی کمشنرز نے ویکسینیشن کی محنت اور زحمت کرنے کی بجائے قتل و غارت گری کا آسان حل نکال لیا۔
چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ اس قتل و غارت کو روکنے کیلئے فوری ایکشن لیں ورنہ جب آپ حقیقی منصف کی عدالت میں جائیں گے تو وہاں آپ مجرم ٹھہرائے جائیں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک بہت گنہگار خاتون کو اللہ نے اس بات پر معاف کر دیا کہ اس نے اپنے موزے کی مدد سے کنویں سے پانی نکال کر پیاسے کتے کو دیا۔
میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ یہ جانور نہ صرف معصوم اور پیارے ہیں بلکہ اس زمین کیلئے ضروری بھی ہیں انہیں ختم کرکے ماحولیاتی تبدیلیوں کو مزید سنگین اور خطرناک حد تک نہ لیکر جائیں۔ حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔
لاہور کے واقع کی جب علاقہ مکینوں سے تحقیق کی تو انہوں نے بتایا کہ ان کتوں نے کبھی کسی کو کچھ نہیں کہا تھا چند دن قبل کچھ اوباش نوجوانوں نے ان دونوں کتوں کو پتھر مار کر زخمی کردیا تھا اور جب بھی گزرتے پھر سے پتھر مارتے۔صبح شام پتھر کھا کھا کر یہ باؤلے ہوگئے۔
معصوم کتوں کو مورود الزام ٹھہرانے سے پہلے سوچیے کہ ہم نے ان بے زبانوں کو سوائے نفرت کے دیا ہی کیا ہے؟
گاؤں سے لیکر شہر تک ہر جگہ ان کو دیکھتے ہی دھتکار کر بھگا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ بلاوجہ پتھر مار کر یا چھڑی کے ساتھ پیٹا جاتا ہے کہ بھاگو یہاں سے، جب آپ بے زبانوں کو بلاوجہ پتھر مارو گے تو جواب میں خیر کی امید کیونکر رکھنی۔
ُبے زبان جانوروں پر پتھر برسانے، تشدد کرنے اور انکو زہر دیکر مارنے کی بجائے انہیں روٹی یا گوشت کا ایک ٹکڑا دے دیں۔ جس کتے کو آپ نے کبھی ایک ٹکڑا روٹی بھی دی ہوگی وہ کبھی پلٹ کر آپکو نہیں کاٹے گا۔
ان بے زبان اور معصوم جانور کو نفرت اور زخم نہیں محبت اور پیٹ بھرنے کیلئے کھانا دیجئے۔
آپ نے کسی بے گھر کتے یا بلی کو آخری دفعہ روٹی کا ٹکڑا کب دیا، کبھی پرندوں کیلئے گھر کی چھت یا باغیچے میں دانہ یا پانی رکھا؟
ہم اپنے پالتو کتوں ہسکی، جرمن شیفرڈ اور گولڈن ریٹریور پر ماہانہ پچاس ہزار سے دولاکھ تک خرچ لیتے ہیں لیکن گلیوں بازاروں میں گھومنے والے ان بے گھروں کوایک وقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے۔
یورپین ممالک کی اکثریت جبکہ بہت سارے اسلامی ممالک میں بھی جنگلات، سڑک کنارے اور فٹ پاتھ پر لکڑی کے چھوٹے چھوٹے باکس رکھے ہوتے ہیں کہ کتے اور بلیاں موسمی شدت سے بچ سکیں جبکہ ”فوڈ شئیرنگ ود اینمل” تو عام رویہ ہے۔یورپین ممالک میں کتے اور بلیوں کو مارنے اور نقصان پہنچانے پر سات سال تک جیل کی سزا ہے۔
پنجاب اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی 2021 قوانین کے مطابق بے گھر کتوں کو مارنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے پالیسی بنائی گئی تھی برتھ کنٹرول کیلئے نیوٹرلائز کیا جائے گا۔ ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فراہم کیا جائے گا۔ انہیں ویکسینیشن اور رجسٹرڈ کرکے ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے گا۔ کیا قوانین صرف دکھاوے اور بیوروکریسی کی کرپشن کیلئے بنائے جاتے ہیں؟
وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں خاص طور پر انتہائی درد دل رکھنے والی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ خدارا ان بے زبان و بے گھر مخلوق کا سہارا بنیں، ان کیلئے ووڈن ہوم، ویکسینیشن، ویٹنری ہسپتال، اینیمل ریسکیو سینٹر اور معیاری خوارک کی فراہمی کا انتظام کرکے پنجاب اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مثبت تشخص کے ساتھ متعارف کروائیے نہ کہ بے زبان و بے گھر کتوں کے قاتل کے طور پر۔
میں بار بار اس لیے لکھتا ہوں کہ مجھے اس بات کا ڈر اور احساس ہے کہ اگر ان معصوم و بے گھر کتوں پر مظالم اور انکے قتل عام کو روکنے کیلئے قلم نہ اٹھایا تو روز قیامت اللہ کے حضور ان بے زبان کتوں کا مجرم نہ ٹھہرایا جاؤں۔ ہر وہ شخص جس میں زرا برابر بھی انسانیت باقی ہوگی وہ ہرصورت ان بے زبان جانوروں کیلئے آواز اٹھائے گا۔

