کویت،ریاض،دوحا،دبئی،واشنگٹن:ایران کے میزائل حملوں کے باعث خلیجی ممالک میں واقع اکثر امریکی اڈے تباہ، امریکی فوجیوں نے ہوٹلوں میں پناہ لےلی،ایران کی حملے کی صلاحیت ختم نہیں کی جاسکی، امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، جنرل ڈین
انادولو ایجنسی کی اس خبر کے مطابق، جو نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر مبنی ہے، مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج اب ہوٹلوں اور عارضی مقامات سے کام کر رہی ہیں کیونکہ ایران کے جوابی حملوں نے کئی امریکی فوجی اڈوں کو نقصان پہنچایا، جہاں ایران نے امریکی اڈوں، سفارت خانوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے بعد پینٹاگون کو ہزاروں فوجیوں کو مختلف مقامات پر پھیلانا پڑا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اب تک ایران اور اس کے فوجی ڈھانچے کے خلاف 7,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ کئی امریکی اڈے خاص طور پر کویت میں تقریباً ناقابل رہائش ہو گئے ہیں، جن میں پورٹ شعیبہ پر حملہ بھی شامل ہے جہاں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے اور ایک اہم آپریشن سینٹر تباہ ہو گیا۔ اس کے علاوہ علی السالم، کیمپ بیورنگ، العدید اور پرنس سلطان جیسے بڑے اڈوں پر بھی طیاروں، ایندھن اور مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا۔ دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے عوام سے کہا کہ وہ امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں کی اطلاع ٹیلیگرام کے ذریعے دیں اور اسے اسلامی فریضہ قرار دیا، جبکہ پینٹاگون دفاع مضبوط کرتے ہوئے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم ریٹائرڈ امریکی ماہر ویس جے برائنٹ نے خبردار کیا کہ ہوٹلوں سے کام کرنے سے فوجی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین نے بھی تسلیم کیا کہ مسلسل فضائی حملوں کے باوجود ایران اب بھی خطے میں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 28 فروری سے جاری اس جنگ میں اب تک 1,340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، جبکہ ایران نے جواب میں ڈرون اور میزائل حملے کر کے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن، عراق اور خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنایا جس سے جانی نقصان، انفراسٹرکچر کی تباہی اور عالمی منڈیوں اور فضائی نظام میں خلل پیدا ہوا

