اسلام آباد/لاہور : پاکستان کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں نے عالمی سطح پر اپنی ساکھ مزید مستحکم کر لی ہے۔ کیو ایس (QS) ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ بائی سبجیکٹ 2026 کے مطابق، پاکستان کی 35 جامعات نے تقریباً 180 مضامین میں اپنی برتری ثابت کی ہے۔ اس فہرست میں انجینئرنگ، زراعت اور بزنس مینجمنٹ کے شعبوں میں پاکستانی اداروں نے نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔
قومی سطح پر نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) اسلام آباد نے میدان مار لیا۔ نسٹ نے 76 کے مجموعی اسکور کے ساتھ ایشیا میں 68 واں رینک حاصل کیا ہے۔ انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نسٹ دنیا کی بہترین جامعات میں شامل ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی (QAU) اسلام آباد ملک کی دوسری بہترین پبلک یونیورسٹی قرار پائی ہے جس نے ایشیا میں 89 واں رینک حاصل کیا۔ ریسرچ اور قدرتی سائنسز (Natural Sciences) میں قائداعظم یونیورسٹی کا کوئی ثانی نہیں۔
نجی شعبے میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) نے اپنی برتری برقرار رکھی اور ایشیا میں 129 واں نمبر حاصل کیا۔ بزنس اور مینجمنٹ اسٹڈیز میں لمز پاکستان کی ٹاپ پرفارمر رہی۔
رینکنگ کے معیار اور اشاریے
کیو ایس رینکنگ جامعات کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے 9 مختلف اشاریوں کا استعمال کرتی ہے:
تعلیمی ساکھ (Academic Reputation): 30%
ریسرچ امپیکٹ (Citations per Faculty): 20%
آجروں کی رائے (Employer Reputation): 15%
اساتذہ اور طلبہ کا تناسب: 10%
عالمی نیٹ ورک اور پائیداری: 15% (مشترکہ)
شعبہ جاتی برتری
زراعت: زرعی یونیورسٹی فیصل آباد (UAF) نے کمال کر دکھایا اور زراعت و جنگلات میں دنیا کی ٹاپ 200 جامعات میں شامل ہو گئی۔
بزنس: لمز اور آئی بی اے (IBA) کراچی بزنس ایجوکیشن کے عالمی مرکز بن کر ابھرے ہیں۔
انجینئرنگ: یو ای ٹی (UET) لاہور اور کامسیٹس (COMSATS) نے تکنیکی تعلیم میں اپنا لوہا منوایا ہے۔
چیلنجز اور علاقائی فرق
رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی بہترین جامعات زیادہ تر اسلام آباد اور لاہور تک محدود ہیں۔ پشاور، ملتان، بہاولپور اور سندھ کی دیگر جامعات بھی فہرست میں شامل ہیں لیکن ان کی عالمی پہچان ابھی معتدل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیکلٹی ڈیولپمنٹ اور بین الاقوامی اشتراک کے ذریعے ان علاقائی جامعات کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
کیو ایس ورلڈ رینکنگ 2026 میں پاکستان کی 35 ملکی جامعات شامل، پہلی تین یونیوسٹیاں کون سی؟ جانئیے

