سنگا پور:دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینجز میں شمار ہونے والی Binance ایک نئے تنازعے کی زد میں آ گئی ہے۔ معروف امریکی اخبار The New York Times کی رپورٹ کے مطابق پلیٹ فارم کے ذریعے تقریباً 1.7 ارب ڈالر ایسی کمپنیوں اور اداروں کو منتقل کیے گئے جو مبینہ طور پر ایران سے منسلک تھے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان مشکوک لین دین کے حوالے سے انتباہی اشارے ایک سال سے زائد عرصے تک موجود رہے، مگر کمپنی نے بروقت کارروائی نہیں کی۔ صورتحال اس وقت سنگین ہوئی جب بائننس کے اندرونی تفتیشی ماہرین (internal investigators) نے ان ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی، جس کے بعد معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا۔
اس پیش رفت نے عالمی سطح پر مالیاتی ضوابط (compliance) اور اقتصادی پابندیوں (sanctions enforcement) کے نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف بائننس بلکہ پوری کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہو سکتا ہے۔
امریکا اور دیگر مغربی ممالک پہلے ہی ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر چکے ہیں، اور کسی بھی مالیاتی ادارے کے لیے ان پابندیوں کی خلاف ورزی سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل کے بعدکرپٹو ایکسچینجز پر مزید سخت نگرانی متوقع ہے
صارفین کے لیے KYC (Know Your Customer) اور AML (Anti-Money Laundering) قوانین مزید سخت ہو سکتے ہیں
عالمی ریگولیٹری ادارے کرپٹو مارکیٹ کو مزید کنٹرول کرنے کی طرف جا سکتے ہیں
تاحال Binance کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں کمپنی بارہا یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ عالمی قوانین اور ضابطوں کی مکمل پابندی کرتی ہے۔
بائننس پر بڑا الزام: ایران سے منسلک اداروں کو 1.7 ارب ڈالر منتقل—عالمی سطح پر ہلچل، نیویارک ٹائمز

