واشنگٹن :امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی اہلکار تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ صدر ٹرمپ کو خطے میں عسکری طور پر زیادہ آپشنز دستیاب ہوں۔
وال سریٹ جرنل نے اضافی فوجیوں کی تعینات کی منصوبہ بندی سے آگاہ محکمۂ دفاع کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ممکنہ اضافی فورس میں فوجی اہلکاروں کے علاوہ بکتر بند گاڑیاں بھی شامل ہوں گی۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پینٹاگون ایران جنگ کے درمیان مشرق وسطیٰ میں مزید 10,000 زمینی فوجی بھیجنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ امریکہ کے پاس پہلے ہی تقریباً 5000 میرینز اور 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں فوجی اس خطے میں تعینات ہیں۔ امریکہ ایران کے پڑوسی ممالک اور سمندر میں تقریباً 20 مقامات پر اور جنگی جہازوں پر تقریباً 50,000 فوجیوں کی ایک بڑی فورس کو بھی برقرار رکھتا ہے۔
میرینز اور زمینی کارروائیاں کرنے والے فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات سے ان قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ فوج کی تعیناتی کے ذریعے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے یا ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے اہم جزیرے خارگ پر قبضے کے لیے محدود زمینی کارروائی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
خارگ جزیرے پر نظریں؟پینٹاگون کی خفیہ منصوبہ بندی بے نقاب، ایران کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا

