واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ معاہدے کی باتوں کے باوجود امریکاایلیٹ ’82 ایئر بورن ڈویژن‘ کے ہزاروں فوجیوں کو ایران کے خلاف جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس، واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز نے اس بارے میں رپورٹیں جاری کی ہیں، تاہم فوجیوں کی تعداد ہر جگہ مختلف ہے اور ایک ہزار سے لے کر چار ہزار تک کی تعداد بتائی گئی ہے۔
روئٹرز نے اس معاملے سے باخبر دو افراد کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اضافی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے، جس سے ایرانی سرزمین کے اندر فوج اتارنے سمیت دیگر فوجی آپشنز کو وسعت ملے گی۔ اس ممکنہ اضافے سے تنازع کے داؤ پر لگے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں، جو پہلے ہی اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو کر عالمی منڈیوں کو ہلا چکا ہے۔
حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فوجی امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں مقیم ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کب پہنچیں گے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کے پاس ہمیشہ تمام فوجی آپشنز موجود ہوتے ہیں۔‘
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکااس ایلیٹ 82 ایئر بورن ڈویژن کو ایران کے اہم ترین تیل کے مرکز جزیرہ خارگ پر قبضے کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اس سے قبل 20 مارچ کو ہزاروں میرینز اور ملاحوں کو جنگی بحری جہاز ’یو ایس ایس باکسر‘ کے ذریعے خطے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
تازہ کمک سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد 50 ہزار تھی۔
82 ایئر بورن ڈویژن کیا ہے؟
یہ ڈویژن ایک ایسی بریگیڈ پر مشتمل ہے جو دنیا میں کہیں بھی محض 18 گھنٹوں کے اندر پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پیرا شوٹ دستے
اس ڈویژن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ راتوں رات فضائی راستے سے مطلوبہ جگہ پر اتارے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ان کا ایک نقصان یہ ہے کہ ان کے پاس بھاری بکتر بند گاڑیاں نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے ایرانی جوابی حملے کی صورت میں انہیں خطرہ ہو سکتا ہے۔
جزیرہ خارگ پر ممکنہ حملہ
منصوبہ بندی کے مطابق، پہلے میرینز جزیرے کے تباہ شدہ ایئر فیلڈ کی مرمت کریں گے، جس کے بعد 82 ایئر بورن کے دستے وہاں پہنچ کر مستقل کنٹرول سنبھال لیں گے۔ میرینز کے پاس طویل عرصے تک وہاں رکنے کی سکت نہیں ہوتی، اس لیے ایئر بورن ڈویژن انہیں ریلیف فراہم کرے گی۔

