نیویارک/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور اسلام آباد میں امریکہ و ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کی خبروں کے بیچ، امریکی حکام نے ایران سے منسلک دہشت گردی کے متاثرین کو 318 ملین ڈالر (تقریباً 31 کروڑ ڈالر) کی ادائیگی کے ایک بڑے تصفیے کا اعلان کر دیا ہے۔
مین ہٹن ٹاور کیس اور ایرانی اثاثے:
نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کے یو ایس اٹارنی جے کلیٹن کے مطابق، اس رقم کا پہلا حصہ یعنی 129 ملین ڈالر پیر کے روز متاثرین کو ادا کر دیا گیا ہے۔ یہ فنڈز نیویارک کی مشہور 36 منزلہ عمارت "650 ففتھ ایونیو” (Manhattan Office Tower) سے حاصل کیے گئے ہیں، جس کے بارے میں امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اسے ایران کا ‘بینک ملی’ فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے پابندیوں سے بچنے اور آمدن چھپانے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
یہ قانونی تصفیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا میں بالواسطہ مذاکرات کی خبریں گرم ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تصفیے کے ذریعے امریکہ نے ایک طرف ایران پر دباؤ برقرار رکھا ہے تو دوسری طرف ایرانی اثاثوں کے اس دیرینہ تنازع کو حل کر کے مذاکرات کے لیے ایک مخصوص ‘گراؤنڈ’ تیار کیا ہے۔
اس رقم سے ان خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے گا جو ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے حملوں کا شکار ہوئے، جن میں:
1984 میں بیروت میں امریکی فوجی تنصیبات پر بمباری۔
11 ستمبر کے حملوں سے متاثرہ افراد۔
دیگر عالمی دہشت گردانہ کارروائیاں جن کا الزام ایران پر عائد کیا گیا تھا۔
جنوری 2025 میں طے پانے والے اس حتمی معاہدے کے تحت مجموعی طور پر 318 ملین ڈالر ادا کیے جائیں گے۔ 129 ملین ڈالر کی پہلی قسط 20 مارچ کو مکمل ہوئی، جبکہ بقیہ 189 ملین ڈالر اگلے تین سالوں میں سود سمیت ادا کیے جائیں گے۔
امریکا کا ایران سے وابستہ دہشت گردی کے متاثرین کے لیے 31 کروڑ ڈالر ہرجانے کا اعلان: مذاکرات سے قبل بڑا مالیاتی دھچکا یا تصفیے کی راہ؟

