خیبرپختونخوا کی حکومت نے صوبے میں موجود افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے پاک-افغان طورخم بارڈر جزوی طور پر کھولنے کی منظوری دے دی ہے۔ پہلے مرحلے میں جیلوں میں قید افغان شہریوں کی واپسی عمل میں لائی جائے گی۔
پولیس اور حکومتی ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر صرف مخصوص قافلوں کے لیے کھولا جائے گا اور واپسی کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں پشاور سینٹرل جیل، کوہاٹ اور ہری پور کی جیلوں میں قید افغان شہریوں کو نکال کر ناصر باغ کیمپ منتقل کیا جائے گا، جہاں ان کی رجسٹریشن مکمل کی جائے گی۔
محکمہ داخلہ رپورٹ کے مطابق پشاور سینٹرل جیل میں ایک ہزار سے زائد اور کوہاٹ و ہری پور کی جیلوں میں تقریباً 1200 افغان قیدی موجود ہیں، جن کی دیکھ بھال پر روزانہ لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اہل خانہ کی مسلسل آمد اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکومت نے فوری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔
رجسٹریشن کے بعد افغان مہاجرین کو باقاعدہ قافلوں کی شکل میں طورخم بارڈر کے راستے افغانستان روانہ کیا جائے گا، جس کے دوران سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ خیبر پولیس جمرود سے طورخم بارڈر تک قافلوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے گی۔
واپسی کا دوسرا مرحلہ مہاجر کیمپوں میں مقیم افغان باشندوں پر مشتمل ہوگا، جبکہ تیسرے مرحلے میں صوبے کے مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام عمل باعزت اور منظم طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی سے جیلوں پر دباؤ کم ہوگا، اخراجات میں کمی آئے گی اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
جیل میں بندقیدیوں سمیت افغان شہریوں کی واپسی، طورخم بارڈر کھول دیا گیا

