یروشلم/تہران: مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں جہاں میزائلوں اور ڈرونز نے تباہی مچائی ہے، وہیں اب انٹیلی جنس کی دنیا سے ایک ایسا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے تہران کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پر ہونے والے حملے کے وقت موساد کا ایک ایجنٹ نہ صرف جائے وقوعہ پر موجود تھا بلکہ وہ حملے میں مکمل محفوظ رہا اور اس نے تمام کارروائی کی دستاویز سازی بھی کی۔
موساد کے ایجنٹ نے جائے وقوعہ سے شہید علی خامنہ ای کی لاش اور تباہی کے مناظر کی ویڈیو کسی تیسرے ذریعے یا سوشل میڈیا کے بجائے براہِ راست اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ارسال کیں۔
ذرائع کا اصرار ہے کہ یہ فوٹیج کسی عام شہری کی بنائی ہوئی نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ ایجنٹ کی ہے جس نے ہدف کی تصدیق (Confirmation of Kill) کے لیے اسے ریکارڈ کیا۔
سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ تہران کے اس "وار کنٹرول روم” میں، جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا، وہ شخص کون تھا جو حملے میں محفوظ بھی رہا اور اطمینان سے تصویر کشی بھی کرتا رہا؟
داخلی غداری کا خدشہ: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ شخص کوئی "بیرونی ایجنٹ” نہیں بلکہ ایرانی نظام کے اندر موجود کوئی انتہائی بااعتماد عہدیدار ہو سکتا ہے جو موساد کے لیے کام کر رہا تھا۔
اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایران کے حساس ترین حلقوں تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔
اسرائیلی انکشاف کے بعد ایرانی انٹیلی جنس اداروں اور پاسدارانِ انقلاب نے اپنے اندرونی حلقوں میں "کلین اپ آپریشن” شروع کر دیا ہے۔ کنٹرول روم میں موجود عملے، سیکیورٹی گارڈز اور زندہ بچ جانے والے افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ اس ‘سیاہ بھیڑ’ (Mole) کو بے نقاب کیا جا سکے جس نے ملک کے سپریم لیڈر کی آخری لمحات کی فوٹیج دشمن کے حوالے کی۔
یہ انکشاف ایک طرف ایران کی سیکیورٹی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف اسرائیل کی نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کا حصہ بھی معلوم ہوتا ہے تاکہ ایرانی قیادت کے درمیان بداعتمادی کی دیوار کھڑی کی جا سکے۔

