سڈنی: طبی ماہرین نے دل کے امراض کے علاج میں ایک ایسی انقلابی دریافت کی ہے جس نے برسوں سے قائم طبی نظریات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آسٹریلوی سائنسدانوں نے پہلی بار یہ ثابت کیا ہے کہ انسانی دل میں ہارٹ اٹیک یا دل کی ناکامی (Heart Failure) کے بعد اپنے متاثرہ پٹھوں کے خلیات کو دوبارہ بنانے کی قدرتی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
برسوں پرانا طبی نظریہ غلط ثابت
اب تک طبی دنیا میں یہ مانا جاتا تھا کہ دل کے دورے کے دوران جو خلیات مر جاتے ہیں، وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ ‘اسکار ٹشوز’ (داغ والے بافتے) لے لیتے ہیں، جس سے دل کی پمپنگ کی صلاحیت مستقل طور پر کم ہو جاتی ہے۔ تاہم، یونیورسٹی آف سڈنی کی اس نئی تحقیق نے اس تصور کو بدل دیا ہے۔
تحقیق کے اہم پہلو اور ‘مائٹوسس’ کا انکشاف
مشہور تحقیقی جریدے ‘سرکولیشن ریسرچ’ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، سائنسدانوں نے سڈنی کے رائل پرنس الفریڈ ہسپتال میں بائی پاس سرجری کروانے والے مریضوں کے زندہ ٹشوز کا مطالعہ کیا۔
تحقیق میں پایا گیا کہ دل کے دورے کے بعد دل کے اندر ‘مائٹوسس’ (Mitosis) کا عمل شروع ہوتا ہے۔
اس عمل کے دوران خلیات تقسیم ہوتے ہیں اور نئے خلیات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یونیورسٹی آف سڈنی کے ریسرچ فیلو رابرٹ ہیوم کے مطابق، یہ عمل پہلے صرف چوہوں میں دیکھا گیا تھا، لیکن اب انسانوں میں اس کے ٹھوس شواہد مل گئے ہیں۔
مستقبل کا علاج: اب دل خود ٹھیک ہوگا؟
اس مطالعے کے سینئر مصنف اور معروف ماہر امراض قلب پروفیسر شان لال کا کہنا ہے کہ اس دریافت کا حتمی مقصد ایسے علاج تیار کرنا ہے جو دل کی اس قدرتی مرمت کے عمل کو مزید تیز کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا:
"ہمارا مقصد ایسی ادویات یا طریقہ علاج وضع کرنا ہے جن کی مدد سے دل کے نئے خلیات بنائے جا سکیں اور ہارٹ فیل کے مریضوں کو دوبارہ صحت مند زندگی کی طرف لایا جا سکے۔”
نوجوانوں کے لیے امید کی کرن
دنیا بھر میں دل کی بیماریاں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں اور حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کے بڑھتے ہوئے کیسز نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا۔ یہ دریافت نہ صرف طبی سائنس کے لیے ایک اعزاز ہے بلکہ ان لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو دل کی کمزوری کے باعث محدود زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
میڈیکل سائنس کا بڑا معجزہ: کیا انسانی دل اب خود اپنی مرمت کر سکے گا؟ سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

