واشنگٹن:امریکا کی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو جمعرات کو بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملے کے کسی بھی منصوبے کو ملتوی کرنے کا کہا تھا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نتن یاہو نے بدھ کو صدر ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی اور اسی دن امریکی صدر نے کہا کہ انہیں ’دوسری طرف سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے اطلاع ملی ہے کہ ایران نے مظاہرین کو مارنا بند کر دیا ہے اور وہ پھانسی کے عمل کو آگے نہیں بڑھا رہا۔
اس سے ظاہر ہوا کہ صدر ٹرمپ ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جس پر وہ کئی دنوں سے غور کر رہے تھے۔
ایران میں گذشتہ سال دسمبر کے آخر میں دارالحکومت تہران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے، جو دہائیوں کے دوران ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں سب سے بڑے تھے۔
ان مظاہروں میں ہزاروں کی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ ایرانی حکومت نے مبینہ طور پر مظاہرین میں سے کچھ کو پھانسیاں دینے کا منصوبہ بھی بنایا۔
صدر ٹرمپ نے تین روز قبل ایران میں مظاہرین کی مدد کرنے کا عندیہ دیا اور بعدازاں کہا کہ مزید اموات یا پھانسیوں کی صورت امریکا مظاہرین کی مدد کرے گا۔ تاہم بدھ کو ان کے رویے میں نرمی دیکھنے کو ملی جب انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے مظاہرین کو مارنا بند کر دیا ہے اور پھانسیاں بھی نہیں دی جا رہیں۔
امریکا کا ایران پر فضائی حملہ کس کے کہنے پر روکا گیا؟ نیویارک ٹائمز کا اہم انکشاف

