تہران+واشنگٹن :امریکا نے ایران میں مظاہروں کے دوران پُرتشدد اقدامات کے ذمہ دار افراد اور اداروں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکات بسنت نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں اُن شخصیات اور اداروں پر عائد کی گئی ہیں جنھیں ’ایران میں احتجاجی مظاہروں میں شامل افراد پُرتشدد کا کی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔‘
جاری کردہ فہرست میں ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، اور صوبہ لرستان اور فارس میں پاسداران انقلاب کے کمانڈرز نعمت اللہ باقری اور یداللہ بوعلی کے نام شامل ہیں۔
امریکا نے 18 دیگر افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جن پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ امریکا کے مطابق یہ افراد غیر ملکی منڈیوں میں ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل فروخت کر کے بینکاری کے خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے رقوم منتقل کرتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ یہ پابندیاں اُن نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بناتی ہیں جنھیں ’شیڈو بینکانگ‘ کہا جاتا ہے، جو ایرانی حکام کو قدرتی وسائل کی فروخت سے حاصل آمدنی کو چوری کرنے اور منی لانڈرنگ کے ذریعے چھپانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
ن پابندیوں کے تحت افراد اور کمپنیوں کو امریکا میں موجود کسی بھی جائیداد یا مالی اثاثے تک رسائی نہیں دی جائے گی اور امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکا جائے گا۔ تاہم یہ پابندیاں زیادہ تر علامتی ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر کے پاس امریکی اداروں میں فنڈز موجود نہیں ہیں۔
ان پابندیوں کے حوالے سے امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے 18 افراد اور کمپنیوں کو نامزد کیا ہے۔ امریکا کا دعویٰ ہے کہ ان افراد نے ’شیڈو بینکنگ نیٹ ورک‘ کے ذریعے ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل شدہ رقوم کی منی لانڈرنگ میں حصہ لیا۔ شیڈو بینکنگ سے مراد وہ مالیاتی سرگرمیاں اور ادارے ہیں جو بینکوں کی طرح کام کرتے ہیں لیکن روایتی بینکاری نظام کے ضوابط سے باہر ہوتے ہیں۔
ایران میں مظاہرے ، امریکا نے تشدد میں ملوث افراد اداروں پر نئی پابندیاں لگادیں

