واشنگٹن+کاراکس:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے بیرون ملک منتقل کرنے کی تصدیق کردی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں میں کہا کہ ’امریکہ نے وینزویلا کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے انجام دی ہے۔ اس کارروائی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے‘۔

تاحال وینزویلا کی حکومت یا دیگر سرکاری ذرائع کی جانب سے امریکی صدر کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کو ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’انتہائی شاندار‘ قرار دیا۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’اس میں بھرپور منصوبہ بندی شامل تھی اور اس میں بہترین، نہایت بہترین فوجی اور قابل لوگ شریک تھے۔
کارروائی “ڈیلٹا فورس “ نے کی
امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوج کے خصوصی یونٹ ’ڈیلٹا فورس‘ نے اپنی حراست میں لیا ہے۔
ڈیلٹا فورس امریکی فوج کا اعلیٰ ترین انسدادِ دہشت گردی یونٹ سمجھا جاتا ہے، جو انتہائی خفیہ اور حساس کارروائیوں میں مہارت رکھتا ہے۔
صدر نکولس مادورو کے سر پر 50 ملین ڈالرکا امریکی انعام
امریکا طویل عرصے سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی سطح پر منشیات سمگلنگ کرنے والی مبینہ تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں، تاہم صدر مادورو نے ہمیشہ اِن الزامات کی تردید کی ہے۔
اس سے قبل امریکا نے صدر مادورو کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر 50 ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا۔
وینزویلا کے وزیرِ دفاع نے ملک بھر میں فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔
صدر نکولس پر امریکا میں فوجداری الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا، ریپبلکن سینیٹر مائیک لی
ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ امریکا میں فوجداری الزامات پر مقدمے کا سامنا کریں گے۔ یہ تصدیق سینیٹر مائیک کی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ فون کال کے بعد سامنے آئی ہے۔
سینیٹر لی نے کہا کہ ’روبیو کا خیال ہے کہ اب جبکہ مادورو امریکی تحویل میں ہیں تو وینزویلا میں مزید کوئی کارروائی متوقع نہیں ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ امریکی حملے ’ان افراد کے تحفظ اور دفاع کے لیے کیے گئے تھے جو گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کر رہے تھے۔
وینزویلا کی مسلح افواج کو ملک بھر میں تعینات کردیا گیا، وزیردفاع ولادیمیر پادرینو
ہسپانوی زبان میں اپنے ایک ویڈیو خطاب کے دوران وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے کہا ہے کہ وینزویلا کو اپنی تاریخ کی ’اب تک کی بدترین جارحیت‘ کا سامنا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وینزویلا صدر مادورو کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تمام مسلح افواج کو ملک بھر میں تعینات کر رہا ہے۔
کولمبیا اور کیوبا کی مذمت
کولمبیا اور کیوبا کی حکومتوں نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی ہے۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’کولمبیا کی حکومت وینزویلا میں حالیہ گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کی گئی دھماکوں اور غیر معمولی فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے، اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کو باعثِ تشویش سمجھتی ہے۔‘
کیوبا کے صدر میگل ڈيازکینل نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے ’فوری‘ ردعمل کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کو ’جرائم پر مبنی حملہ‘ قرار دیا۔
صدر ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو اور وینزویلا کی تیل پر انحصار کرنے والی معیشت پر امریکہ کا فوجی اور معاشی دباؤ کئی ماہ سے بتدریج بڑھتا چلا آ رہا تھا۔
امریکی صدر نے دسمبر میں کہا تھا کہ صدر مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا ’دانشمندی‘ ہو گی، جبکہ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وینزویلا کے صدر کے ’دن گنے جا چکے ہیں۔
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سنیچر کے روز امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر نکولس مادورو کی ’زندگی کا ثبوت‘ فراہم کرے، جن کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی افواج نے گرفتار کر لیا ہے۔وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں سنیچر کی صبح تقریباً دو بجے (صبح چھ بجے مطابق جی ایم ٹی ٹائم) زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں، جن کے ساتھ طیاروں کی پرواز جیسی آوازیں بھی شامل تھیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی نے اس کی تصدیق کی ہے۔
یہ دھماکے ایسے وقت میں سنے گئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ نے بحیرہ کیریبین میں بحری ٹاسک فورس تعینات کر رکھی ہے۔

