تہران: ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پانچویں دن کے احتجاجی مظاہروں میں 6 افراد جان سے گئے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے مظاہرین کی مدد کا اعلان کردیا، صدر پزشکیان کی عوام سے یکجہتی کی اپیل،آئندہ کچھ گھنٹوں میں بڑے فیصلے کرسکتے ہیں۔
جنوب مغربی ایران کے شہر لارڈیگن میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے۔ایران میں حکومت کے خلاف احتجاج کا دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ۔ مظاہرین نے کئی شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ اب مظاہرین ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
احتجاج موبائل فونز مارکیٹ سے شروع ہوا،یونیورسٹی طلبا شامل
مظاہرے حد سے بڑھتی مہنگائی اور معاشی گراوٹ کے خلاف اتوار کو تہران میں موبائل فونز کی سب سے بڑی مارکیٹوں میں شروع ہوئے تھے اور جلد ہی احتجاج کا دائرہ وسیع ہو گیا کیونکہ تہران اور کئی دوسرے شہروں میں کم از کم دس یونیورسٹیوں میں طلبہ نے مظاہرے کیے۔ تہران یونیورسٹی کے وائس پریزیڈنٹ محمد رضا تقی دخت نے میڈیا کو بتایا کہ چار طلبہ کو گرفتار کیا گیا اور انہیں رات کو رہا کر دیا گیا۔
تعلیمی ادارے،بینک اور سرکاری دفاتر بند
ایران بھر میں تقریبا تمام سکول، بینک اور سرکاری ادارے حکام کے فیصلے سے بند کر دیے گئے تھے جنہوں نے اس اقدام کی وجہ شدید سردی اور توانائی کے استعمال میں کمی بتائی تھی۔ اسی طرح دارالحکومت کی یونیورسٹیوں نے اعلان کیا کہ سرد موسم کی وجہ سے اگلے پورے ہفتے کلاسز آن لائن ہوں گی۔
مظاہرین اصفہان، ہمدان، بابول، دہلران، باغ ملک اور پیان جیسے شہروں میں سڑکوں پر اتر آئےاحتجاج ایران کے 21 صوبوں تک پہنچ چکا ہے۔
آئندہ چند گھنٹوں میں بڑے فیصلے کرسکتے ہیں، ایرانی صدر پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات میں احتجاج کے بجائے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی صورت حال بہتر بنانے اور شہریوں کی قوتِ خرید میں اضافے کے لیے آئندہ چند گھنٹوں کے اندر نئے فیصلے کر سکتی ہے۔
صدرپزشکیان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران کو مسلسل بیرونی دباؤ کا سامنا ہے، جسے انہوں نے ہمہ گیر جنگ سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو معاشی دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مہنگائی سےبے حال عوام سڑکوں پر نکل آنے پر مجبور
واضح رہے کہ ایران میں دسمبر 2025 سے جاری حکومت مخالف مظاہرے بنیادی طور پر اقتصادی بحران کی وجہ سے شروع ہوئے ہیں، جہاں ایرانی کرنسی ریال ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
مہنگائی کی شرح 42 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ روزمرہ زندگی کے اخراجات بڑھنے سے عوام بے حال ہیں اور سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ نہاوند، اسد آباد اور ہمدان جیسے شہروں میں فائرنگ اور آنسو گیس کے گولے داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ایرانی عوام بری حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں ، امریکی سینیٹر رِک اسکاٹ
امریکی سینیٹر رِک اسکاٹ نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حوصلہ ملا کہ ایرانی لوگ ایران کی ظالم تانا شاہی کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ایرانی عوام سے بُری حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی۔
اسرائیلی خفیہ ایجنی موساد کی مظاہرین کو مکمل حمایت کی یقین دہانی
اسرائیلی ریاست کے سب سے بڑے انٹیلی جنس ادارے موساد نے ایران کے احتجاجی مظاہرین کو اپنی مکمل حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔
موساد ایرانی مظاہرین کو ایران کے اندر اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کی اس سے پہلے بھی کوشش کر چکی ہے۔ ماہ جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران اسرائیل نے رجیم تبدیل کرنے کی کال دیتے ہوئے لوگوں کو باہر آنے کے لیے کہا تھا۔
اب پھر موساد نے براہ راست ایرانی مظاہرہن سے کہا ہے کہ وہ احتجاج جاری رکھتے ہوئے ایرانی حکومت پر اپنا دباؤ بڑھائیں۔ موساد نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان احتجاج کرنے والوں کے ساتھ زمین پر بھی موجود ہے۔

