نیویارک: نیویارک :نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ۔ 34 سالہ ظہران ممدانی نے سٹی ہال نیویارک میں قرآنِ مجید پر حلف لیا ۔نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیم نے ممدانی سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر ظہران ممدانی کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ممدانی قرآنِ پاک پر حلف لینے والے نیویارک کے پہلے میئر ہیں ۔
حلف برداری کی تقریب مین ہٹن کے ایک تاریخی، غیر فعال سب وے سٹیشن میں منعقد ہوئی۔ اس کے بعد ڈیموکریٹ ظہران ممدانی امریکہ کے سب سے بڑے شہر کے پہلے مسلمان رہنما بن گئے ہیں۔
امریکی نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا اور کہا کہ ’یہ زندگی کا سب سے بڑا اعزاز اور موقع ہے
اپنی پہلی تقریر میں ممدانی نے کہا کہ یہ سٹیشن ’شہر کی زندگی، صحت اور ورثے میں عوامی ٹرانزٹ کی اہمیت کا ثبوت‘ ہے۔ انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے نئے کمشنر مائیک فلن کے تقرر کا اعلان بھی کیا۔
ظہران ممدانی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’آپ سب کا شکریہ، اب میں آپ سے بعد میں ملوں گا‘، اور سیڑھیاں چڑھ کر باہر نکل گئے۔
دوپہر ایک بجے سٹی ہال میں ایک بڑی عوامی تقریب میں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز، جو ممدانی کے سیاسی ہیرو ہیں، انہیں دوبارہ حلف دلائیں گے۔ اس کے بعد براڈوے کے ’کینیون آف ہیروز‘ پر عوامی جشن ہوگا۔
ظہران ممدانی نہ صرف شہر کے پہلے مسلمان میئر ہیں بلکہ پہلے جنوبی ایشیائی نژاد اور پہلے افریقہ میں پیدا ہونے والے میئر بھی ہیں۔زہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے ساتھ ساتھ ایک صدی میں کم عمر ترین میئر بن کر تاریخ رقم کی ہے۔
انتخابی مہم میں انہوں نے ’افورڈیبلٹی‘ کو مرکزی نعرہ بنایا اور وعدہ کیا کہ وہ زندگی کے اخراجات کم کرنے کے لیے انقلابی پالیسیاں لائیں گے، جن میں بچوں کی مفت دیکھ بھال، مفت بسیں، ایک ملین گھروں کے لیے کرایہ منجمد کرنا اور شہر کے زیرانتظام گروسری سٹورز کا پائلٹ شامل ہے۔
تاہم انہیں روزمرہ مسائل کا بھی سامنا ہوگا جیسے کچرا، برف، چوہے، سب وے کی تاخیر اور سڑکوں کے گڑھے۔
ظہران ممدانی کمپالا، یوگنڈا میں پیدا ہوئے۔ وہ فلم ساز میرا نائر اور مصنف محمود ممدانی کے بیٹے ہیں۔ ان کا خاندان اس وقت نیویارک منتقل ہوا جب وہ سات سال کے تھے۔ وہ 2018 میں امریکی شہری بنے۔۔
100 سال میں کم عمر ترین مئیرنیویارک ظہران ممدانی نے قرآن پر حلف اٹھا لیا

