واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ غزہ میں امن منصوبے کے دوسرے مرحلے تک جلد پہنچا جائے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے جلد ہتھیار نہ ڈالے تو اسے ’بہت سخت نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے یہ بات فلوریڈا میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔
اگرچہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امن منصوبے پر ’100 فیصد عمل کیا ہے‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے بیلسٹک میزائل یا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکہ ایک بڑا حملہ کر سکتا ہے۔
امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ میں ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام، حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنا اور اسرائیلی فوج کا انخلا شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نتن یاہو اس میں تاخیر کر رہے ہیں اور وہ اسرائیلی فوج کے انخلا سے پہلے حماس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔
جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں کم از کم 414 فلسطینی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ حماس نے تین اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صرف سیزفائر کی خلاف ورزی پر جوابی کارروائی کی تھی۔
پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر نئے مقامات پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی گئی تو امریکہ دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔ ایران نے ان الزامات کو ‘نفسیاتی جنگ’ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ٹرمپ اور نتن یاہو کی پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر حماس ہتھیار نہیں ڈالتا تو اگلے اقدامات کیا ہوں گے۔
ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ یہ ان کے لیے ’خوفناک‘ ہو گا۔ ’میں نہیں چاہتا کہ ان کے ساتھ ایسا ہو۔ لیکن انھوں نے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ آپ اسرائیل کو اس کا قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے۔‘
حماس نے ہتھیار نہ ڈالے تو سخت نتائج ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو پھر دھمکی

